(فوٹو اے آئی)
فرانس، بیلجیم، آسٹریا، ڈنمارک اور ہالینڈ کے بعد پرتگال نے بھی عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل پرتگال نے اس قانون کو امتیازی قرار دیا ہے۔
پرتگال میں عوامی مقامات پرچہرے کے مکمل پردے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ صدر انٹونیو سیگورو(President Antonio Jose Seguro ) نے اس قانون پردستخط کردیئے ہیں ۔ یہ قانون جولائی میں پارلیمان میں منظور کیا گیا تھاجس کی تجویز دائیں بازو کی چیگا پارٹی نے پیش کی تھی۔
صدرسیگورو نے اس اقدام کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عظیم سماجی اور ثقافتی حساسیت کے مسئلے کو حل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی عمل کے دوران کی گئی ترامیم نے انہیں قانون پر دستخط کرنے پر آمادہ کیا۔
پرتگالی صدر نے اس اقدام کی حمایت میں سماجی انضمام، عدم امتیاز اور عوامی تحفظ کے ساتھ ساتھ چہرے کو ڈھانپنے سے متعلق یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ چہرے کو شناخت اور رابطے کا کلیدی جُز سمجھا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تسلیم کرنے کے لیے کہ صرف خواتین کو، اپنے پورے چہرے کو چھپانا چاہیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان برابری اور مساوی وقار کی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی، وہ اقدار جو یورپی جمہوریتوں کی تشکیل کرتی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل پرتگال نے اس قانون کو امتیازی قراردیا ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ اس سے ان مسلم خواتین کے حقوق کو خطرہ ہے جو اپنا چہرہ ڈھانپنے کا انتخاب کرتی ہیں۔
اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر150-3000یورو تک جُرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ تاہم صحت، پیشہ ورانہ، فنکارانہ یا موسمی ضروریات جیسی وجوہات کی بنا پر اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ عبادت گاہوں، سفارتی مشنز اور ہوائی جہازوں کے اندر بھی یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اس قانون کے نفاذ کے ساتھ پرتگال یورپ کے ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں چہرہ ڈھانپنے پرپابندی عائد ہے ۔ فرانس، بیلجیم، آسٹریا، ڈنمارک اور ہالینڈ میں عوامی مقامات پر چہرے کے مکمل پرپردے پر کلی یا جزوی پابندی عائد ہے۔





