(فوٹواے پی)
عائشہ وہاب کیلی فورنیا سے امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد امریکی رکن منتخب ہوگئیں۔ اے آئی پی اے سی کی مخالفت کے باوجود ڈیموکریٹ امیدوار کو شکست دے دی۔
عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی رکن منتخب ہونے والی پہلی افغان نژاد امریکی بن گئی ہیں ۔ کیلی فورنیا کے 14ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی خصوصی نشست کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوارعائشہ وہاب نے اپنی ہی جماعت کی اسرائیل نواز امیدوار میلیسا ہرنانڈیز کو شکست دے دی۔
39 سالہ عائشہ وہاب کی کامیابی کو امریکی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ان کی انتخابی مہم کو اسرائیل نواز تنظیم امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی
(AIPAC) سے منسلک سپر پی اے سیز کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اے آئی پی اے سی سے وابستہ سیاسی گروپوں نے عائشہ وہاب کے خلاف اشتہارات اور سوشل میڈیا مہم پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے، جبکہ ان کی حریف میلیسا ہرنانڈیز کی حمایت میں بھی بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلائی گئی۔
عائشہ وہاب کون ہیں؟
عائشہ وہاب ڈیموکریٹ پارٹی کے بائیں بازو کے دھڑے سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ غزہ میں جنگ بندی، اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر نظرثانی اور صحت و تعلیم کے نظام میں اصلاحات کی حمایت کرتی رہی ہیں۔
امریکی کانگریس میں آنے سے قبل عائشہ وہاب کیلی فورنیا کی ریاستی اسمبلی کی رکن تھیں، جہاں وہ پہلی مسلمان اور افغان نژاد امریکی رکن منتخب ہوئی تھیں۔
اپریل میں ایک تقریب کے دوران فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عائشہ وہاب نے انہیں نسل کشی قرار دیا تھا۔ اس کے برعکس ان کی انتخابی حریف میلیسا ہرنانڈیز نے اسرائیل کے اقدامات کو حقِ دفاع قرار دیا تھا۔
ایرک سوئل ویل کی خالی نشست پر کامیابی
عائشہ وہاب نے یہ خصوصی انتخاب سابق رکن کانگریس ایرک سوئل ویل کی خالی ہونے والی نشست پر جیتا ہے۔ سوئل ویل نے اپریل میں جنسی بدسلوکی اور ہراسانی کے الزامات کے بعد کانگریس کی نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
عائشہ وہاب اب جنوری تک ایرک سوئل ویل کی باقی ماندہ مدت پوری کریں گی۔ تاہم نومبر میں ان کا میلیسا ہرنانڈیز کے ساتھ دوبارہ مقابلہ متوقع ہے، جہاں دونوں امیدوار دو سالہ مدت کے لیے کانگریس کی نشست حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔
اے آئی پی اے سی کے خلاف ایک اور انتخابی کامیابی
عائشہ وہاب کی کامیابی کو ڈیموکریٹ پارٹی میں اسرائیل نواز لابی کے سیاسی اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی ماہ مشی گن میں عبدالسید نے ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری میں کامیابی حاصل کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نواز لابی نے انہیں شکست دینے کی کوشش میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر خرچ کیے تھے۔ عبدالسید نے بھی اپنی انتخابی مہم میں اے آئی پی اے سی پر تنقید کو نمایاں موضوع بنایا تھا۔
عائشہ وہاب کی انتخابی مہم کے دوران بھی اے آئی پی اے سی سے منسلک سپر پی اے سیز نے ان کے خلاف لاکھوں ڈالر خرچ کیے اور ان کی مخالف امیدوار کی حمایت کی، تاہم وہ انتخاب جیتنے میں کامیاب رہیں۔
بے مقصد جنگوں کے خاتمے کا عزم
انتخابی مہم کے دوران عائشہ وہاب نے کہا تھا کہ کانگریس میں پہنچنے کے بعد وہ بے مقصد جنگوں کے خاتمے کے لیے کام کریں گی۔
دوسری جانب میلیسا ہرنانڈیز نے اپنی مہم میں واشنگٹن میں مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے اور چھوٹے کاروباروں کو ترجیح دینے پر زور دیا تھا۔
عائشہ وہاب کی کانگریس میں آمد امریکی سیاست میں افغان نژاد اور مسلم امریکی نمائندگی کے حوالے سے بھی ایک اہم سنگِ میل مانی جا رہی ہے۔





