گولان کی پہاڑیاں شام کی ملکیت،اسرائیل کا قبضہ غیرقانونی،امریکی سفیرٹام براک کا بیان

Published On: 23 August, 2026 01:02 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
گولان کی پہاڑیاں شام کی ملکیت،اسرائیل کا قبضہ غیرقانونی،امریکی سفیرٹام براک کا بیان

(فوٹورائٹرز)

گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کوامریکی خصوصی ایلچی ٹام براک نے غیرقانونی قراردیا ہے۔ان کا کہناہے کہ گولان کی پہاڑیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت شام کا حصہ ہیں۔ ٹام براک کے بیان پر اسرائیل یں برہمی پائی جاتی ہے۔

امریکہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اور ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام براک نے گولان کی پہاڑی اور شام میں اسرائیلی فوج کی کارروائی پر بیان دے کر ہلچل مچا دی ہے ۔ واشنگٹن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اسرائیل کا شام کی گولان کی پہاڑیوں پرقبضہ ہے جواقوام متحدہ کی قراردادوں اورعالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

ٹام براک کا یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کے موقف سے الگ ہے ۔ خیال رہے کہ مارچ 2019 میں ٹرمپ نے گولان پہاڑیوں پر اسرائیل کے کنٹرول کو تسلیم کیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹام بارک نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے تحت گولان کی پہاڑیاں شام کی ملکیت ہیں۔ امریکی ایلچی نے کہا کہ اسرائیل اب بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی نظام کی مخالفت کرتے ہوئے گولان پر قابض ہے جبکہ عالمی برادری کا موقف ہے کہ گولان شام کا حصہ ہے۔

اسرائیل کا سخت ردعمل
اسرائیلی وزیرخارجہ گیڈیون سار
(Israeli Foreign Minister Gideon Saar) نے براک کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے بیانات کو غلط اور بے بنیاد دلائل پر مبنی قرار دیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ گولان کے معاملے پر ٹرمپ کے اپنے موقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ٹرمپ کی قریبی اتحادی اور قدامت پسند کارکن لورا لومر(Conservative activist Laura Loomer) بھی براک پر تنقید میں شامل ہوگئیں۔ انہوں نے 2019 کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے براک سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کی قرارداد کیا ہے؟
گولان کی پہاڑیوں سے متعلق 1981 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اہم قرارداد 497 منظور ہوئی تھی جس میں اسرائیل کی جانب سے گولان پر اپنے قوانین، عدالتی اختیار اور انتظامی نظام نافذ کرنے کے فیصلے کو باطل اور کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا اور اپنی ملکیت کا متنازع اعلان کیا تھا اور 1981 میں اپنا قانون اور انتظامی نظام بھی نافذ کر دیا۔ تاحال اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی اکثریت نے اسرائیل کی گولان کی پہاڑیوں پر ملکیت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

اس سال اپریل میں شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں گولان کی پہاڑیوں کو بدستور مقبوضہ شامی علاقہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 497 پر عمل درآمد اور اسرائیلی افواج کی 4 جون 1967 کی جنگ سے قبل والی حد تک واپسی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔