(فوٹو اے آئی)
مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ بستیوں اور نوآبادیاتی چوکیوں کی مجموعی تعداد 592 تک پہنچ گئی ہے۔ فلسطینی کمیشن کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تعداد تقریباً 7 لاکھ 80 ہزار ہو چکی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں اور نوآبادیاتی چوکیوں کی کل تعداد 592 تک پہنچ چکی ہے، جب کہ غاصب اسرائیل مغربی کنارے کے تقریباً 42 فیصد رقبے پر قابض ہو چکا ہے ۔ یہ انکشاف فلسطین میں یہودی آباد کاری پر نگاہ رکھنے والے کمیشن برائے نسلی دیوار واستعمار(The Colonization and Wall Resistance Commission) نے کیا ہے۔
کمیشن کی جانب سے فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قبضے اور نوآبادیاتی سرگرمیوں سے متعلق جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تعداد رواں سال جولائی کے اختتام تک تقریباً 7 لاکھ 80 ہزار ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تقریباً 3 لاکھ 33 ہزار 600 یہودی آباد کار مقبوضہ بیت المقدس کی بستیوں میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں تقریباً 4 لاکھ 46 ہزار 400 آباد کار موجود ہیں۔
کمیشن نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ یہ یہودی آباد کار 192 بستیوں میں تقسیم ہیں، اس کے علاوہ 400 بستیوں کی چوکیاں بھی موجود ہیں جن میں 231 چراگاہوں پر مشتمل چوکیاں شامل ہیں۔
مغربی کنارے کے 42 فیصد رقبے پر کنٹرول
کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حکام کے سرکاری احکامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی کنارے کے تقریباً 42 فیصد رقبے پر اسرائیلی کنٹرول قائم ہو چکا ہے، جو تقریباً 5 ہزار 660 مربع کلومیٹر کے مساوی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کے نام نہاد ’سی‘ زون کے تقریباً 71 فیصد حصے پر بھی کنٹرول حاصل کر رکھا ہے جبکہ مقبوضہ وادیِ اردن میں یہ شرح تقریباً 91 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
2023 کے بعد آباد کاری میں تیزی
کمیشن کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ پراسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کمیشن کے مطابق 2023 کے اختتام تک مغربی کنارے میں بستیوں کی تعداد 180 تھی جبکہ نوآبادیاتی چوکیوں کی تعداد بھی تقریباً 180 ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کے بعد بستیوں اور چوکیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ تازہ اعداد و شمار فلسطینی اراضی پر اسرائیلی آباد کاری میں مسلسل توسیع کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خاص طور پر چراگاہوں پر قائم کی جانے والی چوکیاں فلسطینی زمینوں پر قبضے اور اسرائیلی آباد کاری کے پھیلاؤ کے اہم ذرائع کے طور پر سامنے آئی ہیں۔





