فوٹو رائٹرز
غزہ میں اسرائیلی جارحیت جنگ بندی کے بعد بھی جاری ہے۔ فلسطینیوں کو آج بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
اکتوبر2025 میں امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں 1,000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ محصور فلسطینی علاقے میں انسانی صورتحال بدستور انتہائی سنگین ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق،فلسطینی وزارت صحت نے بدھ کے روز بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ بھر میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1,005 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
میڈیکل ایڈ فار فلسطینز (MAP) کی غزہ ڈائریکٹر فِکر شلتوت نے کہا کہ ہم غزہ میں ایک اور المناک سنگِ میل پر سوگوار ہیں۔ ہزاروں ایسے افراد، جنہیں بتایا گیا تھا کہ بدترین وقت گزر چکا ہے، آج بھی اپنے پیاروں کو دفن کرنے پر مجبور ہیں۔
اس جنگ بندی نے بڑے پیمانے کی لڑائی کو تو روک دیا، تاہم معاہدے کے دوسرے اور زیادہ حساس مرحلے پر کوئی اتفاق نہیں ہو سکا، جس کے تحت اسرائیلی فوجیوں کو غزہ سے انخلا کرنا تھا اور حماس کو اپنے ہتھیار ترک کرنا تھے۔
اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے فلسطینی علاقے میں اپنی موجودگی مزید مضبوط کر لی ہے اور اب وہ غزہ کی 64 فیصد اراضی پر قابض ہے جبکہ معاہدے کے تحت یہ تناسب 53 فیصد ہونا تھا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کے مطابق گزشتہ جمعے کو غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں درجنوں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا، جب اسرائیلی افواج نے مغرب کی جانب نام نہاد ییلو لائن کی مزید توسیع کے اشارے کے طور پر زرد سیمنٹ کے بلاکس نصب کیے۔
اس ماہ کے آغاز میں حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تنظیم فی الحال اپنے ہتھیار ترک نہیں کرے گی اور اس کے عسکری ذخیرے کا مستقبل دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ جامع مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔
اس جنگ بندی کا ایک مقصد غزہ اور اس کے صحت کے نظام کی تعمیرِ نو کا آغاز بھی تھا۔
تاہم OCHA کے مطابق محصور علاقے کے 37 اسپتالوں میں سے صرف 20 جزوی طور پر فعال ہیں جبکہ پورے غزہ میں ایک بھی ایسا اسپتال موجود نہیں جو مکمل طور پر فعال ہو۔
فِکر شلتوت نے کہا کہ جب بمباری جاری رہی اور غزہ تقریباً مکمل محاصرے میں رہا، تو عالمی لیڈروں نے خود کو یہ یقین دلا لیا کہ کاغذ کا ایک ٹکڑا جوابدہی، محاصرے کے خاتمے اور ضرورت مندوں تک ادویات کی رسائی کا متبادل بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ آج بھی جب غزہ میں رسائی سخت پابندیوں کا شکار ہے اور امداد کو بھوکی آبادی کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، عالمی برادری کی خاموشی برقرار ہے۔
23 اکتوبر کو غزہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ علاقے کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے جبکہ تقریباً 19 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔




