(فوٹورائٹرز)
امریکہ اور ایران کے بیچ امن معاہدے پر دونوں ملکوں کے صدور نے دستخط کردیے ہیں۔معاہدے پرالیکٹرانک دستخط کے بعد دونوں حریف ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سمیت وسیع تر معاملات پر 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز ہو گیا۔
امریکہ اور ایران کے بیچ امن معاہدے پر دونوں ملکوں کے صدور نے دستخط کردیے ہیں۔ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے معاہدے پرالیکٹرانک دستخط کے بعد دونوں حریف ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سمیت وسیع تر معاملات پر 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز ہو گیا۔ تاہم اس میعاد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پرختم کرنے،امریکی ناکے بندی کا خاتمہ،آبنائے ہرمز کی بحالی،ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ،جوہری ہتھیاروں کی ممانعت سمیت دیگر نکاتی شامل ہیں۔
معاہدے کے متن کے مطابق واشنگٹن نے ایران کی معیشت کو متاثر کرنے والی تیل کی پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد امریکہ خطے کے ممالک کی حمایت سے قائم 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ کے اجرا میں سہولت فراہم کرے گا۔
اسرائیل کی طویل عرصے سے خواہش کے باوجود ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا معاہدے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
دنیا بھر کے ممالک اس معاہدے کا خیر مقدم کررہے ہیں تو امریکہ میں ہی ٹرمپ کی تنقید بھی جارہی ہے ۔
امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا یہ احمق لوگ جو سمجھتے ہیں کہ میں ایران کے خلاف کافی سخت نہیں رہا جبکہ اسٹاک مارکیٹ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں یا تو حاسد ہیں، برے لوگ ہیں یا پھر بے وقوف ہیں۔
ادھر، ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ کیا کہ یہ معاہدہ امریکہ کی ناکامی کی علامت ہے جب کہ صدر پزشکیان نے اسے تاریخی قرار دیا۔
اس معاہدے سے ایران ، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کی توقع ہے، جس میں اپریل کے اوائل میں جنگ بندی سے پہلے پانچ ہفتوں تک شدید جنگ جاری رہی تھی۔
تاہم اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
اس بیچ ،امریکہ نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں پر عائد کی گئی ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔امریکی فوج نے بتایا کہ جمعرات کو اس نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو تین سعودی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے روانہ ہوئے ۔ جے ڈی وینس کے مطابق اب کم از کم 12 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل آبنائے سے روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے۔




