(فوٹورائٹرز)
لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں آج (جمعہ) کم از کم 18 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوگئے ہیں۔ حزب اللہ کی جوابی کارروائی چار اسرائیلی فوجی بھی ماارے گئے ہیں حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ بھی ہوچکا ہے
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ نے جمعہ کے روز جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق، لبنان میں حالیہ کشیدگی اور لڑائی میں اضافے نے ایران میں جنگ کے خاتمے سے متعلق عبوری معاہدے کو ایک وسیع اور پائیدار امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات منسوخ کر دیے گئے، کیونکہ لبنان میں لڑائی شدت اختیار کر گئی تھی۔ اس صورتحال نے عالمی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اہم مذاکرات کے وقت اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی۔
ایک سینئر امریکی اہلکار نے لبنان کے مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 4 بجے (1300 GMT) بتایا کہ جنگ بندی اسی وقت نافذ العمل ہو جائے گی۔
اہلکار نے مزید کہاکہ ہماری معلومات کے مطابق آج کی جھڑپوں کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کی مدد سے اس معاہدے کو حتمی شکل دی۔
لبنان میں حالیہ جھڑپوں کے دوران فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کے حملوں میں چار اسرائیلی فوجی مارے گئے۔اسرائیل نےجنوبی اور مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے اور متعدد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی پوزیشنوں کا دفاع جاری رکھے گی۔
یہ کشیدگی جاری مذاکرات پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے کیونکہ لبنان میں لڑائی کا خاتمہ امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر معاہدے کی ایک بنیادی شرط ہے۔
حزب اللہ کے ایک سینئر رکنِ پارلیمان نے کہا کہ ایران نے تنظیم کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک جاری نہیں رہ سکتے جب تک ایک جامع جنگ بندی نہ ہو جائے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کی راست ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے، اور تہران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔




