(فوٹواے پی)
قطر کے صنعتی شہر راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع قدرتی گیس ٹرمینل میں زوردار دھماکے کے بعدخوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔
قطر کے اہم قدرتی گیس برآمدی ٹرمینل(Natural Gas Export Terminal ) میں اتوار کی شب (21 جون) ایک زبردست دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں کم سے کم 13 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہوگئے۔زخمیوں کو نزدیکی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے ۔
میڈیارپورٹس کے مطابق ، یہ دھماکا تب ہوا جب ورکرز ایران کی جانب سے جنگ کے دوران کیے گئے حملے کے بعد بند ہونے والی تنصیبات کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
قطر کے وزیر توانائی سعد شریدہ الکعبی(Energy Minister Saad Sherida al-Kaabi ) نے پیرکودوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ یہ ایک حادثہ تھا، تخریب کاری یا کسی دشمنانہ کارروائی کا نتیجہ نہیں ۔ وزیر توانائی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق بھارت اور پاکستان سے تھا۔ جبکہ زخمیوں میں قطر سمیت مختلف افریقی اور ایشیائی ممالک کے شہری شامل ہیں۔
دھماکے اور آگ لگنے کے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔کمپنی کے مطابق، دھماکے کا اثر برآمدی انفراسٹرکچر یا گیس کی سپلائی پر نہیں پڑا ہے۔
یہ دھماکہ قطر کے صنعتی علاقے راس لفان میں پیش آیا، جو دنیا کے بڑے قدرتی گیس برآمدی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کرنے کے باعث قطر پہلے ہی اپنی گیس کی پیداوار معطل کر چکا تھا کیونکہ وہ اپنے خریداروں تک گیس کی ترسیل نہیں کر پا رہا تھا۔
جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران ایران کی جانب سے دباؤ میں کچھ کمی آنے پر قطر نے اپنے برآمدی ٹرمینل کو دوبارہ فعال کرنے کا کام شروع کیا۔ اسی دوران برزان ( Barzan)گیس سپلائی فیسلٹی میں دھماکہ اور آگ بھڑک اٹھی۔
برزان پلانٹ روزانہ تقریباً 1.4 ارب معیاری مکعب فٹ فروخت کے قابل گیس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ قطر اس گیس کو بنیادی طور پر مقامی بجلی کی پیداوار اور صحرائی علاقوں میں قائم اہم سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس (Desalination plants) کو چلانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
اس پلانٹ کی ملکیت تقریباً مکمل طور پر قطر کے پاس ہے جبکہ ایک چھوٹا حصہ امریکی کمپنی ExxonMobil کے پاس بھی ہے۔ کمپنی نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مارچ میں بھی ایران کے ایک میزائل نے راس لفان ( Ras Laffan)کو نشانہ بنایا تھا، جس سے آگ بھڑک اٹھی تھی اور حکام کے مطابق تنصیبات کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔ اس کےبعد آگ پر قابو پا لیا گیا تھا۔ ایران کے حملوں کے باعث قطر پہلے ہی وہاں پیداوار معطل کر چکا تھا۔




