(فوٹورائٹرز)
غزہ میں فلسطینی بچوں کو اسرائیل دانستہ طور پر نشانہ بنارہا ہے۔یہ انکشاف اقوام متحدہ کی آزادانہ تحقیقاتی رپورٹ میں ہوا ہے ۔ اسرائیل رپورٹ کو بے بنیاد اور پروپیگنڈہ بتا کرمسترد کررہا ہے۔
غزہ میں فلسطینی بچوں کو اسرائیل دانستہ طور پر نشانہ بنارہا ہے۔ اکتوبر2023 کے بعد سے جاری اسرائیلی حملوں میں متعدد بچوں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ سلسلہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی بدستورجاری ہے۔ اقوام متحدہ کی آزادانہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہا ہے، جس کے باعث نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم جیسے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی طرف سے تشکیل دیے گئے تحقیقاتی کمیشن کے مطابق ایسے ہی اقدامات مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر ایسے حملے کیے جن سے بڑی تعداد میں فلسطینی بچوں کی ہلاکت اور شدید جسمانی نقصان ہوا۔
کمیشن کےمطابق یہ کارروائیاں منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد بچوں کو نشانہ بنا کر فلسطینیوں کے مستقبل کو کمزور کرنا ہے۔ کمیشن نہ اس حوالے سے شواہد ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2021 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل کے حوالے سے مبینہ بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری قائم کیا تھا۔ماہرین پر مشتمل یہ کمیشن باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔
منگل کے روز کمیشن کے سربراہ قانون داں سرینیواسن مرلی دھر نے کہا کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی بچوں کی ہلاکتیں اور شدید زخمی ہونا جاری ہے اور اسرائیل جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کو فراہم کیے جانے والے تحفظ کو نظر انداز کر رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ فلسطینی بچوں کا تحفظ، نگہداشت اور بقا فلسطینی عوام کے حقِ خودداریت سے الگ نہیں ۔ بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل دراصل فلسطینی قوم کی بقا اور ان کے مستقبل کے تعین کی صلاحیت پر حملہ کر رہا ہے۔
رپورٹ اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کرتی ہے کہ اس نے بھوک کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کیا اور انسانی امداد کی آمد پر پابندیوں کے باعث بچوں میں شدید غذائی قلت پیدا ہوئی، جس سے ان کی بقا کے بنیادی حالات متاثر ہوئے۔
ادھر، اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے ۔اس نے رپورٹ کو بے بنیاد، جانبدار اور پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔یہ صورتحال 7 اکتوبر 2023 کے اس حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا گیا تھا ۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے بڑے پیمانے پر رہائشی عمارتوں، تعلیمی اداروں، طبی مراکز حتیٰ کہ پناہ گاہوں کونشانہ بنایا ۔ مزید بچوں کو گرفتار کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور طبی سہولیات تک رسائی محدود کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
اسرائیل کا موقف ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاع کے تحت ہیں، جن کا مقصد حماس کا خاتمہ ،یرغمالیوں کی رہائی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے ۔یہ معاملہ اس وقت عالمی عدالتِ انصاف میں بھی زیرِ سماعت ہے، تاہم اس کے حتمی فیصلے میں وقت لگ سکتا ہے۔
گذشتہ ستمبرمیں کمیشن نے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کرنے کا الزام عائد کیا۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ معقول بنیادیں موجود ہیں کہ 1948 کے جینوسائیڈ کنونشن میں بیان کردہ پانچ میں سے چار اقدامات اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے ہیں۔
گزشتہ سال اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس نے جنگ بندی پر اتفاق کیاتھا۔ اس کے بعد فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 1000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 265 بچے شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ چار فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔




