امریکہ خلیجی اتحادیوں کی سلامتی پر نہیں کرے گا سمجھوتہ، روبیو کی یقین دہانی

Published On: 25 June, 2026 12:08 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
امریکہ خلیجی اتحادیوں کی سلامتی پر نہیں کرے گا سمجھوتہ، روبیو کی یقین دہانی

(فوٹورائٹرز)

ایران کے ساتھ مذاکرات طے پانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو عرب خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں۔ کویت میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے ایران، آبنائے ہرمز، خلیجی ممالک اور لبنان سے متعلق امریکی موقف کی وضاحت کی۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو( U.S. Secretary of State Marco Rubio) خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں ۔ ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی امن معاہدے کے حوالے سے وہ خلیجی اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کے مشن پر ہیں۔دورے کے دوران روبیو   نے علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

روبیو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا ہے، جسے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ہونے والا پہلا باضابطہ معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مجوزہ معاہدے میں ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کے قیام اور بعض امریکی پابندیوں میں نرمی کی تجاویز شامل ہیں، جن پر خلیجی ریاستوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ اپنے تین روزہ دورے کے پہلے مرحلے میں ابوظہبی پہنچے جہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید النہیان اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقاتیں کیں۔ اس کےبعد وہ کویت پہنچے جبکہ ان کے دورے کا اگلا پڑاؤ بحرین ہوگا۔

ان تینوں ممالک میں  اہم امریکی فوجی اڈے ہیں جو حالیہ ایران-امریکہ۔اسرائیل تنازع کے دوران ایرانی میزائل حملوں کی زد میں بھی رہے تھے۔

کویت میں میڈیا سے بات  کرتے ہوئے مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ اپنے خلیجی اتحادیوں کے مفادات اور سلامتی کو نقصان پہنچانے والا کوئی اقدام نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ واشنگٹن خطے میں اپنے دیرینہ شراکت داروں کے تحفظ اور استحکام کے لیے بدستور پرعزم ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو اور اماراتی قیادت کے درمیان ملاقات میں ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ پر خصوصی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر امریکہ نے متحدہ عرب امارات کی سلامتی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

کویت میں مارکوروبیو نے امیرِ کویت شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح سے ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، استحکام اور دفاعی تعاون کے معاملات زیر بحث آئے۔ انہوں نے امریکی سفارت خانے میں پرچم کشائی کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ یہ سفارت خانہ ایران سے منسلک ڈرون حملوں کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا اور اب دوبارہ فعال ہو گیا ہے۔

خلیجی ممالک کو اس امر پر خاص تشویش ہے کہ ایران کو فراہم کیے جانے والے مجوزہ 300 ارب ڈالر اس کی فوجی صلاحیتوں کی بحالی اور دفاعی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ مزید مجوزہ معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ حالیہ جنگ کے دوران انہی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے بعد آئندہ 60 دنوں میں تفصیلی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم کی افزودگی اور خاص طور پر 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے مستقبل جیسے حساس معاملات پر غور کیا جائے گا۔ بین الاقوامی سطح پر یہ مسئلہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو ہتھیاروں کے معیار تک پہنچانے کے لیے نسبتاً کم اضافی افزودگی درکار ہوتی ہے، جبکہ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مارکو روبیو کا خلیجی دورہ نہ صرف ایران کے ساتھ ہونے والے ابتدائی معاہدے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش ہے بلکہ اس کا مقصد خطے میں امریکی اتحادیوں کو یہ یقین دلانا بھی ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مفاہمت کے باوجود ان کی سلامتی اور دفاعی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔