اسرائیلی جارحیت کے 1000دن ، غزہ میں امن ایک خواب، مستقبل غیریقینی

Published On: 02 July, 2026 12:31 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
اسرائیلی جارحیت کے 1000دن ، غزہ میں امن ایک خواب،  مستقبل غیریقینی

(فوٹواے پی)

غزہ میں امن کا قیام خواب بن کررہ گیا ہے ۔ حماس کے حملے کے بعد سے جاری اسرائیلی جارحیت کے ہزار دن مکمل ہوگئے ہیں ۔

 حماس کے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی غزہ جنگ کو آج ایک ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران  مشرقِ وسطیٰ میں دیگر محاذ بھی کھل گئے جبکہ مختلف علاقوں میں ہونے والی نازک جنگ بندیاں مسلسل حملوں کے باعث غیر یقینی کا شکار ہیں۔ اسرائیلی اور فلسطینی دونوں اس طویل تنازع کے بوجھ سے شدید تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔


میڈیارپورٹس کے مطابق غزہ میں موجود 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی قسمت اب بھی غیریقینی ہے۔ ان میں سے بیشتر بے گھر ہو چکےہیں اور اور تباہ شدہ  عمارتوں اور کھنڈرات کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔
 
 
10 اکتوبر2025 سے نافذ جنگ بندی کے وقت اسرائیلی فوج غزہ کے نصف سے زیادہ علاقے پر قابض تھی، تاہم اسرائیلی حکومت نے اس  کنٹرول کو مزید بڑھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کا ہدف غزہ کے تقریباً 70 فیصد حصے پر کنٹرول برقرار رکھنا ہے۔

غزہ میں لوگوں کی آمد و رفت انتہائی محدود ہے جبکہ جنگ بندی کے اگلے مراحل، جن میں حماس کو غیر مسلح کرنا اور وسیع پیمانے پر تعمیر نو شامل ہے، تاحال تعطل کا شکار ہیں۔

 عالمی ریڈ کراس کمیٹی کے علاقائی ڈائریکٹر نکولس وان آرکس نے کہا کہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے اور ہم اس ہدف سے بہت دور ہیں۔
۔

 

اسرائیلی جارحیت ہنوز جاری


جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اسرائیلی فضائی حملوں میں نمایاں کمی ضرور آئی ہے مگر یہ حملے اب بھی تقریباً روزانہ جاری ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے منگل تک 1,053 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 350 سے زائد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

ایک فلسطینی خاتون وصال ابو خاطر نے ایک اور حملے کے بعد کہاکہیہ کیسی جنگ بندی ہے جس کی سب بات کرتے ہیں؟ ان پر شرم آنی چاہیے۔ عرب دنیا نے غزہ کے عوام کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور خود ورلڈ کپ دیکھنے میں مصروف ہے۔

اقوام متحدہ نے بدھ کو خبردار کیا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی توسیع ایسے علاقوں میں عام شہریوں کے لیے مزید جان لیوا خطرات پیدا کر رہی ہے جہاں زمینی حدود واضح نہیں ہیں۔

وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے3,400 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یہ وزارت حماس کے زیر انتظام حکومت کے ماتحت ہے اور اس کے جانی نقصان کے اعداد و شمار کو اقوام متحدہ اور کئی آزاد ماہرین عمومی طور پر قابلِ اعتماد قرار دیتے ہیں، اگرچہ وزارت شہریوں اور جنگجوؤں کی الگ الگ تعداد جاری نہیں کرتی۔ اس کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں تقریباً نصف خواتین اور بچے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صرف حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو نشانہ بناتی ہے، جن پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہوتا ہے،جبکہ اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں جنوبی اسرائیل میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 افراد یرغمال بنائے گئے تھے۔ اس کے بعدتمام یرغمالیوں یا ان کی باقیات واپس کر دی گئیں جبکہ کئی آزاد ہونے والوں نے قید کے دوران بدسلوکی کے الزامات بھی لگائے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک مجموعی طور پر 73,066 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

 

ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کو خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی


جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے اعلیٰ سفارت کار نکولے ملادینوف کے مطابق جنگ بندی کے اگلے مراحل حماس کو غیر مسلح کرنے کے معاملے پر رکے ہوئے ہیں۔

یہ معاملہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کے لیے ایک اہم امتحان بن گیا ہے۔

اس بورڈ کا قیام غزہ کی جنگ کے بعد بحالی کے لیے کیا گیا تھا اور اس کے لیے اربوں ڈالر کے عالمی وعدے بھی کیے گئے، تاہم اب یہ ادارہ عوامی سطح پر زیادہ سرگرم دکھائی نہیں دیتا۔

حماس کے غیر مسلح ہونے کی صورت میں غزہ میں نئی انتظامیہ، بین الاقوامی امن و استحکام فورس کی تعیناتی اور تعمیر نو کے منصوبے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اگرچہ حماس نے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے سے انکار نہیں کیا، لیکن اس نے کچھ ہتھیار اپنے پاس رکھنے اور اسرائیل سے مزید رعایتوں کا مطالبہ کیا ہے۔

 

 اسرائیل میں سیاسی تقسیم اور انتخابات 


گزشتہ ایک ہزار دنوں کے دوران اسرائیلی عوام 7 اکتوبر کے حملے اور اس کے بعد لبنان، یمن اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس سال ہونے والے انتخابات میں دوبارہ کامیابی کے خواہاں ہیں، تاہم انہیں سخت سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔

گزشتہ ماہ شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو کو دوبارہ انتخاب نہیں لڑنا چاہیے۔

ان پر 7 اکتوبر سے قبل سکیورٹی ناکامیوں، ان کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن قائم نہ کرنے اور انتہائی مذہبی اتحادیوں کو فوجی سروس سے استثنیٰ دینے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

 

 غزہ کھنڈر میں تبدیل، امداد کی راہ میں رکاوٹیں 


فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان کی برداشت جواب دے چکی ہے۔
زیادہ تر لوگ خیمہ بستیوں یا بمباری سے تباہ عمارتوں کے ڈھانچوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔
جنگ بندی کے بعد ادویات، ایندھن اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی بڑھنے کی توقع تھی لیکن امدادی اداروں کے مطابق ایسا نہیں ہو سکا۔

غزہ کی تمام سرحدی گزرگاہوں پر سخت پابندیاں برقرار ہیں اور بعض اوقات انہیں مکمل طور پر بند بھی کر دیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ماہ تک غزہ کے 17 اسپتال اب بھی غیر فعال تھے۔

اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ اسرائیلی منظوریوں اور کسٹم کے پیچیدہ طریقہ کار کے باعث ضروری سامان کی فراہمی محدود ہے، یہاں تک کہ مصنوعی اعضا (پروستھیٹک) کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ انہیں ممکنہ طور پر دوہرے استعمال کی اشیا سمجھا جاتا ہے۔