(فوٹواے پی)
پاکستان میں ایک تیز رفتار اور گنجائش سے زیادہ مسافروں سے بھری ہوئی بس شاہراہ سے پھسل کر ایک گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک جبکہ 8 دیگر زخمی ہو گئے۔
پاکستان میں ایک تیز رفتار اور گنجائش سے زیادہ مسافروں سے بھری ہوئی بس شاہراہ سے پھسل کر ایک گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک جبکہ 8 دیگر زخمی ہو گئے ۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ بس بے قابو ہو کر دانہ سر کے مقام پر کھائی میں جا گری۔ یہ علاقہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سرحد کے قریب واقع ایک دور افتادہ مقام ہے۔
انہوں نے کہا کہ بس میں نہ صرف اپنے مسافر سوار تھے بلکہ ایک دوسری بس، جو خراب ہو گئی تھی، کے مسافروں کو بھی سوار کر لیا گیا تھا، جس کے باعث گاڑی میں گنجائش سے زیادہ افراد موجود تھے۔ شاہد رند نے بتایا کہ امدادی اہلکارمہلوکین کی شناخت کررہے ہیں ۔
ایسوسی ایٹڈپریس نے اسپتال میں زیرعلاج ایک زخمی مسافرکے حوالے سے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جب ڈرائیور نے راستے میں خراب ہونے والی دوسری بس کے مسافروں کو، جو شاور ہی جا رہے تھے، سوار کرنے کے لیے گاڑی روکی تو بعض مسافروں نے اس پراحتجاج کیا۔اس کے مطابق اس دوران جھگڑا شروع ہوگیا،جس میں مبینہ طور پر ایک مسافر نے ڈرائیورکی گردن پکڑ لی۔ چند لمحوں بعد ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا اور گاڑی کھائی میں جا گری۔
تاہم اس بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی،جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔علاقائی انتظامی افسرحضرت ولی کاکڑنے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے زخمیوں اورمہلوکین کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا ہے۔
ریسکیوحکام کے مطابق حادثے کاشکارہونے والی بس میں 8 مسافر سوارتھے۔حکام نے بتایاکہ 48 زخمی مسافروں کوجائے حادثہ پرابتدائی طبی امداد فراہم کرنےکے بعدژوب کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹراسپتال منتقل کیا گیا جبکہ
‘40 ہلاک افراد کی لاشیں ضلعی اسپتال پہنچا دی گئیں۔
‘40 ہلاک افراد کی لاشیں ضلعی اسپتال پہنچا دی گئیں۔
خیبرپختونخوا ریسکیوایمرجنسی سروسزکے ڈائریکٹرجنرل شاہ فہد نے کہا کہ ان کا ادارہ بلوچستان کی ایمرجنسی سروسزکے ساتھ مل کرامدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگرمہلوکین میں سے کسی کا تعلق خیبرپختونخوا سے ثابت ہوا توحکام ان کی میتیں ایمبولینس کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں تک پہنچائیں گے تاکہ ان کے اہل خانہ کی مدد کی جا سکے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ ایک بیان میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھی قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی علاج فراہم کیا جائے۔
پاکستان میں سڑکوں کی خراب حالت، ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونا اور غیر محفوظ ڈرائیونگ کے باعث، خصوصاً پہاڑی علاقوں میں، سڑک حادثات عام ہیں۔مئی میں شمال مغربی پاکستان میں ایک منی بس موٹروے پر کھڑی ایک بس سے ٹکرا گئی تھی، جس کے نتیجے میں 17 ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے تھے۔




