غزہ کے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی حراست قانونی، اسرائیل کا دعویٰ

Published On: 11 July, 2026 03:27 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
غزہ کے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی حراست قانونی، اسرائیل کا دعویٰ

(فوٹورائٹرز)

غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی حراست پر اسرائیل اور اقوام متحدہ کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اسرائیل نے ان کی حراست کو قانونی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو دسمبر 2024 سے قانونی بنیادوں پر حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس درست نہیں ہیں۔

جنیوا میں اسرائیلی سفارتی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے خلاف ٹھوس انٹیلی جنس معلومات موجود ہیں اور وہ حماس میں کرنل کے عہدے پر فائز تھے۔

بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ دورانِ حراست کبھی بھی ایسی کوئی علامت سامنے نہیں آئی جس سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا اندازہ ہو۔

اسرائیلی وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن اور انسانی حقوق کے  ماہرین نے اس ہفتے ڈاکٹر ابو صفیہ کی حراست اور ان کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ماہر اطفال ڈاکٹر حسام ابو صفیہ 2024 میں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنے تھے جب انہوں نے شمالی غزہ کے محصور کمال عدوان اسپتال میں مریضوں کی ابتر صورتحال سے متعلق مسلسل معلومات جاری کیں۔

27 دسمبر 2024 کو اسرائیلی فوج نے اسپتال پر کارروائی کرتے ہوئے اسے حماس کا دہشت گرد مرکز قرار دیا تھا اور متعدد طبی عملے کے ارکان سمیت ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔

اقوام متحدہ کے چار آزاد انسانی حقوق کے ماہرین نے منگل کو جاری بیان میں کہا تھا کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کو بغیر فردِ جرم اور مقدمے کے مسلسل حراست میں رکھنا فلسطینی طبی عملے کو نشانہ بنانے کی ایک مثال ہے۔

بدھ کو اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن نے بھی کہا کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کے ساتھ دورانِ حراست شدید بدسلوکی کی معتبر اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کمیشن نے ان کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی کے ساتھ آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب اسرائیل نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر ابو صفیہ نے کمال عدوان اسپتال کو حماس کے ایک مرکز کے طور پر چلایا اور انسانی امداد کو شہریوں کے بجائے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ڈاکٹر ابو صفیہ کی حراست کا باقاعدہ عدالتی جائزہ لیا جا رہا ہے اور گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا جائزہ لیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کا 24 جون 2026 کو نٹزان حراستی مرکز پہنچنے پر طبی معائنہ کیا گیا تھا اور اس کے بعد بھی کئی مرتبہ ان کی جانچ کی گئی۔ اسرائیل کے مطابق وہ مسلسل طبی نگرانی میں ہیں اور ماہر ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔