(فوٹو اے آئی)
خیبر پختونخوا کے صوبے کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملے کے نتیجے میں 10سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔ پولیس کے مطابق مہلوکین میں بیشتر سکیورٹی اہلکار اور راہ گیر شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق حملہ ضلع کے درازندہ علاقے میں امان میلہ کے قریب قائم چیک پوسٹ پر کیا گیا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد درازندہ اسٹیشن سے امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کیا۔
پولیس چیف صفدر بلوچ نے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ ترسکیورٹی اہلکار اور راہ گیر شامل ہیں۔ مہلوکین میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ کسٹمز حکام اور محکمہ جنگلات کے اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں پولیس اور کسٹمز اہلکاروں کے ساتھ کم از کم دو عام شہری بھی شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکہ ایک بارود سے بھری گاڑی کو چیک پوسٹ سے ٹکرانے کے نتیجے میں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ تاہم عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعوی کیا ہے کہ اس کے پیچھے تحریک طالبان پاکستان کا ہاتھ ہے۔ ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ گروپ حالیہ برسوں میں اس خطے میں متعدد حملے کرچکے ہیں۔
ٹی ٹی پی افغان طالبان سے الگ تنظیم ہے، تاہم دونوں کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ افغان طالبان نے 2021 میں افغانستان کا اقتدار سنبھالا تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے سنگم کے قریب واقع ہے اور یہاں سامان کی بڑی نقل و حرکت کے باعث اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کسٹمز اہلکار بھی پولیس کے ساتھ تعینات رہتے ہیں۔
یہ ضلع جنوبی وزیرستان کے قریب بھی واقع ہے، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلح حملوں کا مرکز رہا ہے اور جہاں پاکستانی فورسز متعدد فوجی کارروائیاں کرچکی ہیں۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران مسلح حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان میں سے متعدد حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی اور کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) نے قبول کی ہے۔
پاکستانی حکام بارہا افغان طالبان پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے ارکان کو افغان سرزمین پر کارروائیوں کی اجازت دے رہے ہیں اور کابل سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں سرحد پار حملوں کی روک تھام کی جائے۔ افغان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ حملہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے کے دو روز بعد ہوا ہے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق جنوب مغربی سرحد پر حالیہ جھڑپوں میں کم از کم 13 افغان طالبان جنگجو مارے گئے تھے۔ اس سے قبل رواں ہفتے پاکستان نے افغانستان میں مبینہ مسلح گروپوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔






