(فوٹواے پی)
بوسنیا اور ہرزیگووینا میں آج (اتوار،10 اکتوبر2026) انتخابات ہورہے ہیں ۔ ملک کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں اور خطے میں امریکہ و روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں انتخابات کواہم قرار دیا جا رہا ہے۔
بوسنیا ہریگوینا میں انتخابات ہورہے ہیں ۔ 34 لاکھ سے زائد ووٹر حق رائے دہی کا استعمال کررہےہیں ۔ ووٹنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے شام 7 بجے تک جاری رہے گا ۔ رائے دہندگان ملک کی مرکزی قیادت، پارلیمان اور مختلف انتظامی سطحوں کے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ انتخابات میں مجموعی طور پر 518 عہدیداروں کا انتخاب کیا جائے گا۔
بوسنیا میں معاشی سست روی، یورپی یونین میں شمولیت کے عمل کی سست رفتار اور طویل عرصے سے جاری سیاسی بحران کے باعث عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
یورپی یونین کی رکنیت کا عمل تعطل کا شکار
بوسنیا نے 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی خونریز جنگ کے بعد معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے طویل جدوجہد کی ہے۔ دسمبر 2022 میں اسے یورپی یونین کی امیدوار ریاست کا درجہ دیا گیا، جبکہ 2024 میں رکنیت کے مذاکرات شروع کرنے کی منظوری بھی مل گئی تھی۔
تاہم باقاعدہ مذاکرات اب تک شروع نہیں ہو سکے۔ ملکی سیاسی قیادت عدالتی نگرانی مضبوط بنانے اور بدعنوانی کے خلاف قوانین سمیت یورپی یونین کی جانب سے عائد بنیادی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اگرانتخابات کے بعد بھی نسلی بنیادوں پر قائم پارٹیاں غالب رہیں اور مرکزی حکومت میں اختلافات اور باہمی رکاوٹوں کا سلسلہ جاری رہا تو یورپی یونین میں شمولیت کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔
جنگ کے 30 برس بعد بھی سیاست منقسم
بوسنیا کی جنگ 1995 میں امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے ڈیٹن امن معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی تھی۔ معاہدے کے نتیجے میں ملک نسلی بنیادوں پر بڑی حد تک دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم ہو گیا۔
ایک جانب سرب اکثریتی ریپبلیکا سرپسکا ہے، جبکہ دوسری جانب بوسنیاک اور کروٹ اکثریتی فیڈریشن آف بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا ہے۔ دونوں کو مرکزی حکومت اور تین رکنی صدارتی نظام جوڑتا ہے۔
بہت سے شہری اب بھی تقسیم اور قوم پرستانہ سیاست سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں، تاہم عملی سیاست میں حالات اب بھی جمود کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
ریپبلیکا سرپسکا کے سب سے بڑے شہر بانیا لوکا سے تعلق رکھنے والے 76 سالہ پنشنر دوشان سیویچ نے حکومتی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک جو کچھ کیا گیا وہ ناکافی ہے۔ ان کے مطابق عوام مشکلات کا شکار ہیں اور اگر معاملات ایمانداری سے چلائے جائیں تو لوگوں کو بہتر زندگی فراہم کرنے کے راستے موجود ہیں۔
سراسرائیوو کے 51 سالہ ہائی اسکول استاد اسمار گاراسلجیویچ نے بھی سیاسی صورت حال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے 30 سال سے زیادہ عرصے بعد بھی ملک میں قوم پرستی اور وہی پرانے چہرے اور کہانیاں برقرار ہیں۔
نسلی جماعتوں اور اپوزیشن اتحادوں میں مقابلہ
انتخابات میں بڑی نسلی جماعتوں اور کثیر النسلی اپوزیشن اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ اہم جماعتوں میں بوسنیاک جماعت ایس ڈی اے، سرب جماعت ایس این ایس ڈی اور کروٹ جماعت ایچ ڈی زیڈ بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا شامل ہیں، جبکہ اپوزیشن کی قیادت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سمیت مختلف جماعتیں کر رہی ہیں۔
پولی ویو کے انتخابی رجحانات کے مطابق ایس ڈی اے تقریباً 21.4 فیصد حمایت کے ساتھ قومی سطح پر معمولی برتری رکھتی ہے، جبکہ ایس ڈی پی 16.7 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
ریپبلیکا سرپسکا میں علیحدگی پسند رہنما ملوراد ڈوڈک کی جماعت ایس این ایس ڈی تقریباً 34.2 فیصد حمایت کے ساتھ آگے ہے۔ ڈوڈک سربیا اور روس کے ساتھ قریبی تعلقات کے حامی ہیں۔
بوسنیا کے انتخابات پرامریکہ اور روس کی نگاہیں
بوسنیا میں انتخابی عمل صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں بلکہ امریکا، روس اور یورپی یونین کے باہمی اثر و رسوخ سے بھی جڑا ہوا ہے۔
یورپی یونین بلقان میں اپنی رکنیت کا دائرہ بڑھانا چاہتی ہے، جس میں بوسنیا بھی شامل ہے، جبکہ روس ریپبلیکا سرپسکا کی حمایت کے ذریعے ملک میں اپنا اثر برقرار رکھے ہوئے ہے۔
امریکہ بھی بوسنیا میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ واشنگٹن تقریباً 1.5 ارب ڈالر کے ایک پائپ لائن منصوبے کی حمایت کر رہا ہے، جس کا مقصد کروشیا کے راستے امریکی مائع قدرتی گیس درآمد کرنا اور روسی توانائی پر انحصار کم کرنا ہے۔ تاہم یورپی یونین نے منصوبے میں منتخب کمپنی کے انتخاب کے عمل میں مسابقتی شفافیت کے فقدان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان بوسنیا میں بین الاقوامی ہائی نمائندے کے کردار پر بھی اختلافات رہے ہیں۔ ڈیٹن معاہدے کے تحت ہائی نمائندے کو ملک میں قوانین کے نفاذ اور امن معاہدے کی نگرانی کے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ سابق جرمن حکومتی وزیر کرسٹیان شمٹ نے مئی میں امریکی دباؤ کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
نئے انتخابی نظام کا بھی امتحان
اس بار ووٹروں کو نئے طرز کے بیلٹ پیپرز کا سامنا ہوگا، جبکہ انتخابی دھاندلی روکنے کے لیے بائیومیٹرک ووٹر شناخت اور الیکٹرانک اسکینر بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔شام میں ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد مرکزی انتخابی کمیشن کی جانب سے ابتدائی نتائج جاری کیے جانے کی توقع ہے۔
بوسنیا کے لیے یہ انتخابات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ نئی سیاسی قیادت ملک کو طویل عرصے سے جاری نسلی کشیدگی اور سیاسی تعطل سے نکال کر یورپی یونین کی رکنیت کی جانب آگے بڑھاتی ہے یا پھر داخلی اختلافات اور بیرونی طاقتوں کے اثرات ملک کے سیاسی مستقبل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔






