الخلیل میں فائرنگ ، نیتن یاہو کا مغربی کنارے میں لاک ڈاؤن کااعلان

Published On: 23 October, 2026 11:51 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
الخلیل میں فائرنگ ، نیتن یاہو کا مغربی کنارے میں لاک ڈاؤن کااعلان

(فوٹورائٹرز)

الخلیل(ہیبرون) کے قریب فائرنگ کے واقعے میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے پورے مقبوضہ مغربی کنارے میں محاصرے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ پیش رفت اسرائیل میں اہم انتخابات سے چند روز قبل سامنے آئی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فائرنگ کے واقعے کے بعد پورے علاقے میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق واقعے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر معمولی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کے شبے میں دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

انتخابات سے عین قبل ،یہ واقعہ جنوبی مغربی کنارے میں الخلیل (ہیبرون) شہر کے قریب یہودا جنکشن کے علاقے میں پیش آیا۔  اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے اہلکار میگن ڈیوڈ ایڈوم کے حوالے سے میڈیا رپورٹ کے مطابق صبح تقریباً 7 بج کر 15 منٹ پر متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم پانچ افراد زخمی بتائے گئے ، جن میں دو کی حالت تشویش ناک تھی۔ اس کے بعد  اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ زخمیوں میں سے دو فوجی ہلاک ہو گئے، جب کہ تین دیگر فوجیوں کو معمولی چوٹیں آئیں اور انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق فائرنگ میں ملوث دونوں فلسطینیوں کا تعلق الخلیل سے تھا اور وہ ایک ایم 16 رائفل اور ایک پستول سے لیس تھے۔ اسرائیلی فوج نے دونوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

الخلیل  کامحاصرہ، گھرگھر تلاشی کا حکم
واقعے کے بعد نیتن یاہو نے کہا کہ فوج ان علاقوں میں گھر گھر تلاشی لے گی جہاں سے حملہ آوروں کا تعلق بتایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق رہائشیوں کو ان کے گھروں سے نکالا جائے گا اور مبینہ عسکری ڈھانچے کو تباہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی علاقے میں اسرائیلی بستیوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا۔

نیتن یاہو نے الخلیل سے جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ الخلیل اور قریبی شہر حلحول کے گرد سکیورٹی حصار قائم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس طریقۂ کار کو مغربی کنارے کے دوسرے شہروں تک بھی توسیع دینے پر غور کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی حکومت کے دفتر کے مطابق فوج کو الخلیل میں فوری طور پر آمد و رفت محدود کرنے اور جمعے سے پورے مقبوضہ مغربی کنارے کے محاصرے  کی ہدایت دی گئی ہے۔
 
 
 حماس پر الزام، بڑے حملے کی منصوبہ بندی کا دعویٰ
اسرائیلی وزیراعظم نے سکیورٹی کابینہ اور اعلیٰ فوجی و سکیورٹی حکام کے ساتھ ہنگامی اجلاس کے بعد فائرنگ کا الزام حماس پر عائد کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تنظیم بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔

نیتن یاہو نے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ملنے کا حوالہ بھی دیا،تاہم مبینہ منصوبے یا اسلحے کی برآمدگی سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ چند ہفتے قبل ہی خبردار کر چکے تھے کہ اسرائیل کے دشمن انتخابات سے پہلے شہریوں اور فوجیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

غزہ اور لبنان جیسی کارروائی کا انتباہ
اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کاٹز نے بھی الخلیل میں وسیع فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ان محلوں کو خالی کرایا جائے گا جہاں سے مبینہ حملہ آور آئے تھے۔ ان کے مطابق متعلقہ علاقوں میں عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا کر ختم کیا جائے گا۔

کاٹز نے اسرائیل کی غزہ اور لبنان میں کی گئی کارروائیوں اور شمالی مغربی کنارے کے جنین پناہ گزین کیمپ میں فوجی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اسی طرز کی کارروائی الخلیل میں بھی کر سکتا ہے۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اس واقعے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے کے بعض حصوں میں انتظامی امور چلاتی ہے۔

دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزلیل اسموٹریچ نے بھی مغربی کنارے میں وسیع فوجی مہم کی حمایت کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے، ہتھیار جمع کرنے اور مسلح افراد کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی انتخابات سے قبل سکیورٹی کا معاملہ نمایاں
مغربی کنارے میں لاک ڈاؤن کا اعلان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے چند روز پہلے سامنے آیا ہے۔ انتخابات کو نیتن یاہو کی قیادت اور 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کے بعد ان کی حکومت کی سکیورٹی پالیسیوں پر عوامی فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نیتن یاہو نے انتخابی مہم میں اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کو مرکزی موضوع بنایا ہے۔ ان کی حکومت انتخابات سے قبل ممکنہ حملوں کے خدشات ظاہر کرتی رہی ہے، تاہم ان دعوؤں کے حق میں تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

 زیتون کی فصل اورآبادکاروں کے حملوں میں اضافہ
مغربی کنارے میں پہلے ہی اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور یہودی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ زیتون کی فصل کی کٹائی کے موسم میں فلسطینی کسانوں، ان کی مدد کرنے والے کارکنوں اور غیر ملکی شہریوں کو بھی حملوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

رواں ہفتے نیویارک سے امریکی کانگریس کے امیدوار بریڈ لینڈر کو بھی علاقے میں کارکنوں اور امریکی یہودی مذہبی شخصیات کے ایک گروپ کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا۔ امریکی شہری فلسطینی کسانوں کے ساتھ زیتون کی فصل کی کٹائی میں شریک ہونے کے دوران بھی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران زیتون کی فصل کے موسم سے متعلق اسرائیلی آبادکاروں کے کم از کم 160 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ ان میں سے متعدد حملے اسرائیلی فورسز کی حفاظت میں یا ان کی شرکت سے کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق آبادکاروں کے حملوں میں فلسطینیوں کے زیتون کے درختوں اور فصلوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ ان کی پیداوار چوری کرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ نیتن یاہو کی حکومت کو مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی حمایت پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، جب کہ بعض بین الاقوامی حکام نے آبادکاروں کے تشدد کو دہشت گردی سے بھی تعبیر کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار: 322 فلسطینی جاں بحق
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (او سی ایچ اے) کے 31 اگست 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2025 سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج یا آبادکاروں کے ہاتھوں کم از کم 322 فلسطینی جاں بحق ہو چکے تھے، جن میں 74 بچے شامل تھے۔ اس عرصے میں 5,900 سے زیادہ فلسطینی زخمی بھی ہوئے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی اکثریت اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں ماری گئی، تاہم دستیاب اعداد و شمار سے یہ واضح نہیں تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں کتنے مسلح افراد تھے۔

اسی مدت کے دوران اسرائیلی آبادکاروں کے 3,400 سے زیادہ ایسے حملے رپورٹ ہوئے جن میں جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اسی عرصے میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے ہاتھوں کم از کم 20 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے، جن میں ایک بچہ اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکار شامل تھے، جبکہ 120 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

مغربی کنارے میں پہلے سے جاری کشیدگی، آبادکاروں کے حملوں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے پس منظر میں مکمل لاک ڈاؤن کے اعلان نے فلسطینی آبادی کی نقل و حرکت، روزمرہ زندگی اور انسانی صورتِ حال کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔