(بشکریہ بین الاقوامی میڈیا)
انتخابات سے عین قبل وزیر اعظم نیتن یاہو نے تل ابیب پر ایٹمی دھماکے کی اے آئی سے تیار کردہ تصویر شیئر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل ہونے کی صورت میں اسرائیل کو ’دوسرے ہولوکاسٹ‘ کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن نے اس پوسٹ کو نیتن یاہو کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
مشہورکہاوت ہے کہ کاٹھ کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھتی۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو شائد یہ بات سمجھ نہیں آتی ۔ دراصل پڑھی لکھی اسرائیلی قوم نے ان پر باربار بھروسا جو کیا ہے ۔ اس لیے نیتن یاہو ساتویں بار وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ ان ایسا سوچنا غلط بھی نہیں ہے۔
خوف کو ہتھیار کے روپ میں کئی بار استعمال کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے پھر وہی آزمودہ داؤ چل دیا ہے ۔ انھوں نے انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو بنیاد کرعوام کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ان کے علاوہ کسی دوسرے لیڈر کو اقتدار سونپتے ہیں تو ملک کو ’دوسرے ہولوکاسٹ‘ جیسے خطرے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ نیتن یاہو نے اتوار(25اکتوبر2026) کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک تصویر شیئرکی، جس میں تل ابیب کے اوپر ایٹمی دھماکے کے بعد اٹھنے والا دیوہیکل بادل اور آگ کی لپیٹ میں شہر دکھایا گیا ہے۔
اسرائیل میں منگل، 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل سامنے آنے والی اس پوسٹ نے سیاسی حلقوں میں تنازع کھڑا کردیا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں نے وزیر اعظم نیتن یاہو پرالزام لگایا ہے کہ وہ انتخابی مہم میں خوف اور دھمکیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔
ایران کا ایٹمی خطرہ اور ’دوسرے ہولوکاسٹ‘ کا انتباہ
نیتن یاہو نے یہ تصویر دائیں بازو کے کارکن یووال بلومبرگ کی ایک پوسٹ سے شیئر کی، جو گزشتہ ہفتے شائع ہوئی تھی۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ بلومبرگ ماضی میں اوسلو معاہدوں کے خلاف کتاب بھی لکھ چکے ہیں۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کو ایک حقیقی اور ٹھوس وجودی خطرے کا سامنا ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار حاصل کرلیے تو دیگر تمام معاملات اپنی اہمیت کھو دیں گے اور ایران و اس کے شیعہ اتحادیوں سے لاحق خطرہ ہر چیز پر غالب آجائے گا۔
پوسٹ میں نیتن یاہو کی حکومت سے متعلق تنازعات، بشمول قطر گیٹ معاملے اور انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو فوجی بھرتی سے استثنیٰ دینے کے لیے قانون سازی کی کوششوں، کو اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی تدبیریں قرار دیا گیا۔
اس میں سوال اٹھایا گیا کہ اگر وسطی اسرائیل پر دو ایٹم بم گر جائیں تو کیا ان تنازعات کی کوئی اہمیت باقی رہے گی؟
پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل کے پاس ایک محدود موقع موجود ہے۔ اس موقع سے فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں آنے والی نسلیں موجودہ قیادت کو معاف نہیں کریں گی۔
اسی تناظر میں ووٹروں کو متنبہ کیا گیا کہ اگر انہوں نے ایسا لیڈر منتخب کیا جو ایران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ اپنے خاندانوں کو ’دوسرے ہولوکاسٹ‘ کے خطرے سے دوچار کرسکتے ہیں۔ اس پیغام میں بالواسطہ طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی صلاحیت صرف نیتن یاہو کے پاس ہے۔
ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے کے دعوے پر سوال
نیتن یاہو کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ ان کے اپنے سابقہ بیانات سے بھی متصادم دکھائی دیتی ہے۔ وزیر اعظم متعدد مرتبہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ 2025 اور 2026 میں ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی ایٹمی پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
گزشتہ ماہ اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے بھی نیتن یاہو نے کہا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کی ایٹمی ہتھیار سازی کی صلاحیت کو تباہ کن نقصان پہنچایا گیا ہے۔ مارچ میں جاری ایک بیان میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران اب اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ نہیں رہا۔
تاہم، انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں ایٹمی تباہی اور دوسرے ہولوکاسٹ کا خدشہ ظاہر کرنے سے ان دعوؤں اور موجودہ انتخابی بیانیے کے درمیان تضاد نمایاں ہوگیا ہے۔
نیتن یاہو پر حالیہ دنوں میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے یا انتخابات میں تاخیر کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے ایک حالیہ بند کمرہ اجلاس میں کہا تھا کہ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی کوئی عملی فوجی ضرورت انہیں دکھائی نہیں دیتی۔
ٹرمپ سے دوبارہ حمایت حاصل کرنے کی کوشش
اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں ٹرمپ سے دوبارہ عوامی سطح پر اپنی انتخابی حمایت کا اظہار کرنے کی درخواست کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر سے اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرکے اپنی حمایت واضح کرنے کو کہا۔
ایک امریکی عہدیدار نے اس درخواست کو نیتن یاہو کی ’مایوسی کی علامت‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے اس سے ایک ہفتہ قبل نیتن یاہو کی دوبارہ انتخابی کامیابی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے انہیں اپنی ’مکمل اور غیر متزلزل تائید‘ دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام امریکی صدور کی جانب سے اسرائیلی انتخابی سیاست میں براہ راست حمایت کے معاملے میں روایتی طریقۂ کار سے ہٹ کر تھا۔
نیتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار۔ گادی آئزن کوٹ
نیتن یاہو کی پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹی یاشار کے سربراہ اور انتخابی دوڑ میں نمایاں امیدوار گادی آئزن کوٹ نے وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ نیتن یاہو، آپ بوکھلا گئے ہیں۔ ہر انتخابی مہم میں وہی جھوٹ اور خوف پھیلانے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس بار آپ اسرائیلی شہریوں کو اجتماعی تباہی کا خوف دکھا رہے ہیں۔
آئزن کوٹ نے مزید کہا کہ یہ سب اس وقت کیا جارہا ہے جب نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو روز بعد اسرائیلی عوام ووٹ کے ذریعے وزیر اعظم کی ناکامی کا جواب دیں گے۔
’وزیر اعظم کو سوشل میڈیا سے دور رکھا جائے‘
ڈیموکریٹس پارٹی کے لیڈر یائر گولان نے بھی نیتن یاہو کی پوسٹ پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ان کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم نے تل ابیب پر ایٹمی بم گرنے کی تصویر شائع کی ہے اور انہیں سوشل میڈیا سے دور رکھا جانا چاہیے۔
گولان نے کہا کہ وزیر اعظم اور ان کے قریب موجود لوگوں نے ہوش و حواس کھو دیے ہیں اور ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منگل کو ہونے والے انتخابات میں عوام خوف و ہراس پھیلانے والوں کی جگہ نئی قیادت کو منتخب کریں گے، جو اسرائیل میں سلامتی اور سیاسی اعتدال بحال کرے گی۔
’یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی تصویر ہے‘۔نفتالی بینیٹاپوزیشن اتحاد بی یاخاد کے سربراہ نفتالی بینیٹ نے نیتن یاہو کے بیانیے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
بینیٹ نے کہا کہ نیتن یاہو اپنے پیغام کے ذریعے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اسرائیلی عوام صرف اسی صورت میں زندہ رہ سکتے ہیں جب وہ وزیر اعظم رہیں۔ انہوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان کی قیادت سے بہت پہلے قائم ہوا تھا اور ان کے بعد بھی قائم رہے گا۔
ان کے مطابق اسرائیلی عوام کسی بھی سیاست دان سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ تاہم، بینیٹ نے نیتن یاہو کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت ملک کو معاشی، سماجی، سیاسی اور سلامتی کے محاذوں پر تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔
یائرلپید نے کیا طنز
اپوزیشن لیڈر یائر لپید نے بھی وزیر اعظم کے بیان پر طنز کیاہے۔ لپید نے کہا کہ نیتن یاہو کے پیغام کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو تباہی کا خطرہ لاحق ہے، لیکن اس کے باوجود ان کی حکومت امریکی سلامتی امداد سے دستبردار ہونے، معیشت کو نقصان پہنچانے والی پابندیوں کا سامنا کرنے اور وزیر اعظم کے دفتر میں موجود قطر سے مبینہ طور پر وابستہ افراد کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ان تمام باتوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو نیتن یاہو کا موقف بظاہر سمجھ میں آتا ہے۔ لیپڈ ، یاخاد اتحاد میں بینیٹ کے بعد دوسرے اہم رہنما ہیں۔
اسرائیل کے انتخابات سے قبل سامنے آنے والے اس تنازع نے انتخابی مہم میں ایران کی جوہری صلاحیت، قومی سلامتی، امریکی حمایت اور نیتن یاہو کی حکمرانی پر جاری بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔






