(فوٹواے پی)
الخلیل میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فوج نے تمام راستے بند کردیے ہیں۔پابندیوں کے باعث شہریوں کو پیدل راستے عبور کرنے پڑ رہے ہیں اور مریضوں کو اسپتال پہنچنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں دواسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے شہر کے تمام راستے بند کردیے ہیں ۔ کارروائی کے دوران متعدد رہائشیوں کو اپنے گھر خالی کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ سیکڑوں خاندان نقل مکانی کرگئے۔
ہفتے کے روز(23 اکتوبر2026) الخلیل کے باہر اسرائیلی فوج کے زیرِکنٹرول دروازوں کے پیچھے ٹیکسیوں کی قطاریں لگی رہیں۔ فلسطینی شہریوں کو گاڑیوں کے بجائے پیدل راستے عبور کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ فلسطینی شہری چیک پوسٹوں اور سڑکوں کی بندش سے متعلق معلومات کے لیے ٹیلی گرام پر استعمال ہونے والے چینل ’بسمہ ریڈیو‘ کے مطابق، شہر میں داخلے اور باہر نکلنے کے تمام راستے گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند کردیے گئے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا (WAFA) نے بھی ہفتے کے روز اطلاع دی کہ اسرائیلی فوجیوں نے درجنوں رہائشیوں کو ان کے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا اور الخلیل میں داخلے کے تمام راستے اور سڑکیں بند کردیں۔
الخلیل کی بلدیہ کے ہفتے کی صبح جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر کی ایک پہاڑی پر واقع رہائشی علاقے دیر بہا اور اس سے متصل دو محلوں سے 300 تک خاندان نقل مکانی کرگئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دیر بہا میں ایک ایسے مکان پر اسرائیلی پرچم دکھے جسے فوج نے رہائشیوں کو خالی کرنے کا حکم دینے کے بعد اپنی عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال میں لے لیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے اس کارروائی سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔ تاہم، جمعے کے روز فوج نے کہا تھا کہ دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور دیگر اہلکاروں کے زخمی ہونے کے بعد اس نے الخلیل کے اس علاقے میں تلاشی کارروائیاں شروع کردی ہیں، جہاں سے دونوں فلسطینی مسلح افراد نے کارروائی کی تھی۔
اس بیچ ، اسرائیلی پابندیوں کے باعث عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ الخلیل کے مغرب میں واقع گاؤں سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خاتون ریم الجیاوی اپنی 11 سالہ بیٹی کو کینسر سے متعلق طبی معائنے کے لیے دورا کے ایک اسپتال لے جانے کی کوشش میں بند دروازے کے پیچھے انتظار کرتی رہیں۔
گاڑی کے ذریعے براہِ راست اسپتال پہنچنا ممکن نہ ہونے کے باعث بچی کو بند راستے کے قریب اتارا گیا، تاکہ وہ پیدل راستہ عبور کرکے دوسری جانب پہنچ سکے اور وہاں سے مشترکہ ٹیکسی کے ذریعے اسپتال جا سکے۔
شہرکے راستوں کی بندش اور رہائشیوں کی جبری نقل مکانی نے الخلیل میں شہریوں کی روزمرہ زندگی، آمدورفت اور طبی سہولتوں تک رسائی کو بری طرح متاثر کردیا ہے۔






