نیتن یاہو کو ووٹوں کی فکر، الخلیل میں فلسطینی بے گھر

Published On: 25 October, 2026 12:16 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
نیتن یاہو کو ووٹوں کی فکر، الخلیل میں فلسطینی بے گھر

(فوٹورائٹرز)

الخلیل میں اسرائیلی فوج کے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کے دوران تقریباً 1200 فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا،جبکہ مزید 1300 افراد کو بھی بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے اس کارروائی کو اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 مقبوضہ مغربی کنارے کے شہرالخلیل(ہیبرون) میں اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پرفوجی آپریشن شروع کرتے ہوئے تقریباً 1200 فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کردیا ہے جبکہ مزید 1300 افراد کے بھی اپنے مکانات سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، یہ کارروائی جمعے (24 اکتوبر2026) کوالخلیل شہرکے قریب ایک فوجی چیک پوسٹ پر دو فلسطینی مسلح افراد کی فائرنگ سے دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے ایک روز بعد شروع کی گئی ۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ دونوں حملہ آوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعے کو محاصرے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، الخلیل کے داخلی راستے پر واقع فوجی چیک پوسٹ کے قریب الجلادہ اور عین دیر بہا نامی محلوں میں یہ آپریشن مسلح افراد اور ہتھیاروں کی تلاش کے لیے کیا جارہا ہے۔ فوج نے ان علاقوں میں عمارتیں منہدم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی کارروائی کو اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

 مزید فلسطینیوں کے بے گھر ہونے کا خدشہ
الخلیل میونسپلٹی کے سربراہ یوسف زہیر الجعبری کے مطابق، فوجی آپریشن کے نتیجے میں تقریباً 1200 فلسطینی پہلے ہی بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ مزید 1300 افراد کو اپنے مکانات کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے الخلیل میں دکانوں، کارخانوں، گھروں اور سڑکوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق ، یہ کارروائی غیر متناسب اور بلاجواز ہے۔
 

یوسف زہیر الجعبری نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکومت منگل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر سخت گیر آبادکاروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، ان انتخابات میں نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو اکثریت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔

انھوں  نے کہا کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے سخت گیر وزرا آبادکاروں سے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
 
 تقریباً 70 فلسطینی گرفتار
فلسطینی غیر سرکاری تنظیم فلسطینی قیدیوں کے کلب(Palestinian Prisoners' Club) کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے جمعے اور ہفتے کے دوران تقریباً 70 فلسطینیوں کو گرفتار کیا۔ اسرائیلی حکام نے ان گرفتاریوں کے حوالے سے تاحال کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

مقامی باشندوں نے رائٹرز کو بتایا کہ فوج نے متعدد ایسے فلسطینیوں کو بھی گھروں سے نکال دیا جن کا حملہ آوروں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ گھر سے بے دخل کیے جانے والے ایک فلسطینی شہری مجدی ناصر نے حکام سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے میں ملوث نہیں ہیں، ان کے گھروں میں بچے موجود ہیں اور وہ بے بسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے مطابق، لوگوں کے خلاف کارروائی من مانے انداز میں کی جارہی ہے۔

مقامی باشندوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی فوجیوں کو فلسطینی مکینوں کے انخلا کے بعد گھروں پر سیاہ رنگ سے ضرب کا نشان (X) لگاتے دیکھا۔ تاہم، اس نشان کے مقصد کے بارے میں فوری طور پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

 مغربی کنارے میں آبادکاری اور نقل و حرکت پر پابندیاں
نیتن یاہو کی حکومت کے دور میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع میں تیزی آئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے اور بیشتر ممالک ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں، تاہم اسرائیل اس موقف سے اختلاف کرتا ہے۔
 
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے بیشتر فلسطینی شہروں اور قصبوں کے داخلی راستے بند کردیے ہیں، جس سے فلسطینیوں کی آزادانہ نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔

فلسطینی قصبے یطا (Yatta) کے رہائشی یوسف مر نے بتایا کہ راستوں کی بندش کے باعث وہ اپنی بیٹی کو کینسر کے علاج کے لیے یروشلم نہیں لے جاسکے۔
 
ان کے مطابق، جب انہوں نے راستہ عبور کرنے کی کوشش کی تو اسرائیلی فوجیوں نے ان کی جانب اسٹن گرینیڈپھینکے، جس سے ان کی بیٹی خوف زدہ ہوگئی۔ یوسف مر نے کہا کہ علاقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور صورت حال انتہائی خراب ہے۔