نیتن یاہو کی تھی ایران پرنئے حملے کی پوری تیاری،ٹرمپ نے کی مخالفت ۔ رپورٹ

Published On: 21 October, 2026 11:47 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
نیتن یاہو کی تھی ایران پرنئے حملے کی پوری تیاری،ٹرمپ نے کی مخالفت ۔ رپورٹ

(فوٹورائٹرز)

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے رواں ماہ ایران کی جوہری تنصیبات، حکومتی مراکز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ دوبارہ شروع کرنے کی مخالفت کی۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہونے ایران پر دوبارہ حملے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ دوبارہ شروع کرنے کی مخالفت کی ۔ برطانوی روزنامے فنانشل ٹائمزنے معاملے سے واقف تین نامعلوم ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج 10 اکتوبر کوایران پر حملوں کے لیے تیار تھی۔ ممکنہ اہداف میں ایران کی جوہری تنصیبات، حکومتی مراکز اور توانائی کے پلانٹس سمیت شہری بنیادی ڈھانچے سے متعلق مقامات شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے لڑائی دوبارہ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب، اسرائیل میں بھی آئندہ منگل کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں نیتن یاہو کو دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر ٹرمپ اسرائیل کو حملوں کی اجازت دے دیتے تو ان کی شدت فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ ایسی صورت میں امریکہ بھی کارروائی میں شریک ہوتا یا اسرائیل تنہا حملے کرتا۔

اخبارسے بات کرنے والے ایک ذریعے نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں، امریکی اور اسرائیلی انتخابات کے بعد، حملے دوبارہ شروع ہونا ایک ایسا امکان ہے جسے غیر معقول قرار نہیں دیا جا سکتا۔

شہری تنصیبات بھی اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں شامل
رپورٹ کے مطابق،اسرائیل نے ممکنہ حملوں کے لیے نئے اہداف کی فہرست تیار کی ہے، جس میں شہری بنیادی ڈھانچے سے متعلق ایسے مقامات بھی شامل ہیں جنہیں ماضی میں نشانہ نہیں بنایا گیا۔

ایک دوسرے ذریعے نے امکان ظاہر کیا کہ رواں ماہ اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں کی تیاری ایران کے ساتھ مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتی تھی ۔ اس ذریعے کے مطابق، جنگ دوبارہ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔

رپورٹ میں ایک ذریعے کےحوالے سے کہا گیا، یا تو معاہدہ ہوگا یا حملہ۔ ایک دوسرے ذریعے نے کہا کہ تمام امکانات کھلے ہیں اورکسی بھی پیش رفت پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

اخبار کے مطابق، امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ایرانی عہدیدار کی اسرائیل کو سخت دھمکی
رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عبرانی زبان میں لکھا کہ آئندہ ہفتے کے انتخابات کے نتائج خواہ کچھ بھی ہوں، ایران کو اسرائیل کی دشمنی کے حوالے سے کوئی شبہ نہیں۔

عزیزی نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل نے عملی سطح پر معمولی سی بھی غلطی کی تو ایران خطے سے اس کی برائی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور امریکی صدر نے انتخابات سے پہلے حملے نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

ایران سفارت کاری کے لیے تیار، لیکن دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا: عراقچی
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہا کہ تہران تنازع کے باوقار اور پُرامن حل کے لیے سفارت کاری کا خواہاں ہے لیکن اپنے دفاع کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔

عراقچی کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے کسی مفاہمت تک پہنچنے کے لیے آمادگی کا مظاہرہ نہیں کیا، اس لیے فی الحال مذاکرات میں پیش رفت کی توقع رکھنے کی زیادہ وجہ نظر نہیں آتی۔

یہ رپورٹ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے اسرائیل کے خفیہ دورے کے دو روز بعد سامنے آئی۔ دورے کے دوران انہوں نے نیتن یاہو سے ملاقات کی، جس میں خطے کو درپیش خطرات پر بات چیت کی گئی۔

نیتن یاہو کی جانب سے حملوں پر زور دینے کی اطلاعات پہلے بھی سامنے آچکی ہیں
یہ پہلا موقع نہیں کہ حالیہ ہفتوں میں نیتن یاہو کی جانب سے ایران پر حملوں کے لیے دباؤ ڈالنے کی اطلاعات سامنے آئی ہوں۔

9 اکتوبر کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس سے چند روز قبل ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو خبردار کیا تھا کہ آئندہ ہفتوں میں ایران پر حملے سے اسرائیل کے انتخابات ملتوی کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو تہران اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے کر سکتا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل 12 نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ نیتن یاہو نے امریکی اور اسرائیلی انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے ٹرمپ پر زور دیا تھا۔ تاہم، اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو انتخابات سے پہلے ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔

نیتن یاہو کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کی کوشش کے پیچھے سیاسی مفادات بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔

اسرائیلی سکیورٹی حکام کے مطابق، ایران سے متعلق انٹیلی جنس جائزے میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر آئندہ دو سے تین ہفتوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کو ضروری قرار دیا جا سکے۔

ایران کا میزائل پروگرام دوبارہ فعال کرنے کی کوشش
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں متعدد مقامات سے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کیے ہیں۔ ان سرگرمیوں کو ایران کے اس میزائل پروگرام کی بحالی کی کوششوں کا حصہ مانا جا رہا ہے جسے جنگ کے دوران نقصان پہنچا تھا۔

تاہم، اسرائیلی فوج کا اندازہ ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام کی بحالی کا عمل اب بھی سست رفتار ہے اور محدود پیمانے پر آگے بڑھ رہا ہے۔

جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر اختلافات برقرار
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات گزشتہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ تنازع کا بنیادی نکتہ ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم اس نے یورینیم کی افزودگی کو شہری استعمال کی ضروریات سے کہیں زیادہ سطح تک پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ، رپورٹ کے مطابق، تہران نے جوہری معائنہ کاروں کی رسائی محدود کی ہے اور اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی جاری رکھا ہے۔

امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ماہ کہا تھا کہ امریکی مطالبات پورے کرنے کے لیے ایران کو یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنا ہوگی۔

تاہم، ایران نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اس وقت تک تہران کا اعتماد بحال نہیں کر سکتا جب تک وہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی جانب سے گزشتہ ماہ پیش کی گئی سات شرائط پوری نہیں کرتا۔

ایران کے مطابق، ان شرائط میں اس کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھانا اور خطے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل ہیں۔ آخری شرط میں لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع بھی شامل ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے، جسے ایران نے جنگ کے آغاز سے بند کر رکھا ہے۔ اس راستے کی بندش اور امریکی ناکہ بندی نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مجموعی طور پر، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کا معاملہ صرف اسرائیل کی عسکری تیاریوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا انحصار واشنگٹن کے سیاسی فیصلوں، انتخابی حالات اور جوہری مذاکرات کے مستقبل پر بھی ہے۔ تاہم، حملے دوبارہ شروع ہونے کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔