غزہ میں جنگ بندی صرف کاغذوں تک محدود، ایک سال میں 1400 سے زائد فلسطینی جاں بحق

Published On: 09 October, 2026 11:25 PM

WhatsApp
Facebook
Twitter
غزہ میں جنگ بندی صرف کاغذوں تک محدود، ایک سال میں 1400 سے زائد فلسطینی جاں بحق

(فوٹواے پی)

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے، امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں اور تعمیرِ نو پر پابندیاں برقرار ہیں۔ سو سے زیادہ انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں نے متنبہ کیا ہے کہ جنگ بندی صرف کاغذوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

غزہ میں جنگ بندی کے ایک سال مکمل ہوگئے ہیں ۔ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں زمینی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی ہے ۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، دنیا بھرکی سو سے زیادہ انسانی حقوق اورامدادی تنظیموں نے غزہ میں جنگ بندی کو محض کاغذی معاہدہ قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملے، فائرنگ اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ امدادی سامان کی ترسیل اور تعمیرِنو میں رکاوٹوں کے باعث فلسطینیوں کی مشکلات کم ہونے کے بجائے برقرار ہیں۔

جمعہ (9 اکتوبر2026) کو جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں ان تنظیموں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیلی حملوں، فائرنگ اور فوجی کارروائیوں میں 1400 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں کم از کم 324 بچے بھی شامل ہیں۔

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم سیو دی چلڈرن کی چیف ایگزیکٹیو انگر ایشنگ نے کہاکہ جنگ بندی بے معنی ہے، اگر بچے بدستور مارے جارہے ہوں اور خاندان اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل نہ ہوں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے تقریباً ہر روز ایک بچہ شہید ہوا ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں نام نہاد ’یلو لائن‘ کو معاہدے میں طے شدہ فوجی انخلا کی حد سے بھی آگے بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کے لیے دستیاب علاقہ مزید سکڑ گیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو پہلے سے زیادہ گنجان علاقوں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

تنظیموں کے مطابق، غزہ میں تقریباً 20 لاکھ افراد کو اب بھی پناہ کی ضرورت ہے، جبکہ علاقے کی 80 فیصد سے زیادہ عمارتیں تباہ یا متاثر ہوچکی ہیں۔

سردیوں کی آمد، بے گھر خاندانوں کی مشکلات میں اضافے کا خدشہ
سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی بے گھر فلسطینی خاندانوں کو مزید سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ انہیں ایک طرف غیر محفوظ اور خستہ حال عمارتوں میں رہنے کے خطرے کا سامنا ہے تو دوسری جانب ایسے خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جو سردی، تیز ہواؤں اور بارش کے باعث جمع ہونے والے پانی سے محفوظ نہیں۔

بیان میں ستمبر میں غزہ شہر میں ایک متاثرہ عمارت کے منہدم ہونے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں 21 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ان میں 12 بچے بھی شامل تھے۔

ناروے کی امدادی تنظیم  نارویجن رفیوجی کونسل کے سیکریٹری جنرل جان ایجلینڈ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی پابندیوں کے باعث تعمیراتی آلات اور سامان غزہ میں داخل نہیں ہو پارہا، جس سے تباہ شدہ عمارتوں کی مرمت اور تعمیرِ نو کا عمل بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

غزہ کا نظامِ صحت تباہی کے دہانے پر، ہزاروں مریض علاج کے منتظر
مشترکہ بیان کے مطابق، غزہ کے 36 اسپتالوں میں سے کوئی بھی اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کررہا۔ ادویات، طبی آلات اور ایندھن کی شدید قلت کے باعث صحت کا نظام بدستور سنگین بحران سے دوچار ہے۔

تنظیموں نے بتایا کہ 18,500 سے زیادہ مریضوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے، جن میں کم از کم 4,000 بچے شامل ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار سے زیادہ مریض طبی انخلا کے انتظار میں جان گنوابیٹھے ہیں۔
 
غذائی صورت حال بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سال کے اختتام تک غزہ میں 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ یا اس سے بھی بدتر صورت حال کا سامنا رہے گا۔

عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ
100 سے زیادہ انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں نے عالمی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں، غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائیں اور تعمیرِ نو کے عمل میں تعاون کے ساتھ ساتھ ذمہ داروں کا احتساب بھی یقینی بنائیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سکریٹری جنرل ایگنیس کالمارڈ نے کہاکہ ملبے کے نیچے احتساب کو دفن نہیں کیا جاسکتا۔ تنظیموں نے زور دیا کہ جنگ بندی کو محض ایک اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے اس پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ غزہ کے شہریوں کو تحفظ، بنیادی سہولتیں اور اپنی زندگیوں کی بحالی کا موقع مل سکے۔