غزہ میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ کثیر منزلہ عمارت زمین بوس،12بچوں سمیت 21افراد کی موت

Published On: 17 September, 2026 09:23 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
غزہ میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ کثیر منزلہ عمارت زمین بوس،12بچوں سمیت 21افراد کی موت

(فوٹورائٹرز)

غزہ میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ چھ منزلہ عمارت کےمنہدم ہونے سے 12 بچوں سمیت کم از کم 21 فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ شہری دفاع کے مطابق تقریباً 100 افراد اب بھی ملبے تلے دبے یا لاپتہ ہیں جبکہ بھاری مشینری کی کمی کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

غزہ شہر کے مغرب میں شارع الصناعہ کے علاقے میں 6 منزلہ عمارت گرگئی جس کے نتیجے میں  12بچوں سمیت 21افراد کی موت ہوگئی جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔غزہ میں شہری دفاع کے ادارے کی طرف سے دی گئی اطلاع کے مطابق بدھ کی صبح یہ حادثہ ہوا۔ تقریباً  سو افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

شہری دفاع نے ایک پریس بیان میں کہا کہ السعادة نامی عمارت  مکینوں کے ساتھ ساتھ اس کے آس پاس موجود متعدد خیموں پر آ گری، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق اور لاپتہ ہو گئے۔ شہری دفاع اور غزہ بلدیہ کے عملے کے تعاون سے  ملبے کے نیچے  پھنسے افراد کو باہر نکالنے کے لیے تلاش اور ریسکیو کے آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔

جیسے جیسے وقت گزر تا جارہا ہے ویسے ویسے ہلاکتوں  میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں مصری کمیٹی، عرب لیگ، ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کا تعاون بھی شہری دفاع کو حاصل ہے۔ 
 

میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں اسرائیلی بمباری سےمتاثر تقریباً دوہزار عمارتوں میں بڑی تعداد میں فلسطینی رہائش پذیر ہیں جن کی زندگی خطرے میں ہے۔

شہری دفاع نے عالمی برادری، جنگ بندی کے معاہدے کی ضمانت دینے والی مملکتوں ، سلامتی کونسل اور امن کونسل کے براہ راست ذمہ دار جناب نکولے ملادی نوف سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور ہنگامی مداخلت کریں اور اپنی  ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے قابض دشمن پر دباؤ ڈالیں کہ وہ لاشیں نکالنے اور انسانی بنیادوں پر مداخلت کے لیے ضروری بھاری آلات، کھدائی کرنے والی مشینیں اور بلڈوزر غزہ کے حدود کے اندر داخل کرے۔

دوسری جانب غزہ کے بلدیہ کے سربراہ یحيی السراج نے عارضی رہائش گاہیں ، زندگیاں بچانے اور بنیادی ضروریات کی اشیاء فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ پہلا حادثہ نہیں ہے اور شاید یہ آخری بھی نہیں ہوگا جب تک کہ فوری مداخلت نہ کی جائے اور مخدوش عمارتوں کو بچانے اور ان کی مرمت کے لیے ضروری آلات فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ موسم سرما کی آمد، تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کے ساتھ خدشات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں اسی طرح کے انہدام اور حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ قابض فورسز تعمیراتی مواد کے داخلے پر پابندی لگائے ہوئے ہیں جو اسرائیلی بمباری سے متاثرہ مکانات کی مرمت میں رکاوٹ بنتی ہے اور یہی وجہ درجنوں بار پیش آنے والے ایسے خطرناک انہدام کے خطرات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔