(فوٹورائٹرز)
غزہ میں فنڈز کی کمی کے باعث ڈبلیو ایف پی نے 5 لاکھ فلسطینیوں کی ماہانہ غذائی امداد بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ 14 لاکھ افراد غذائی بحران کا شکار ہیں۔
غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (WFP) نے مالی وسائل کی شدید کمی کے باعث اپنی غذائی امداد میں بڑی کٹوتی کردی ہے ۔ اس فیصلے کے نتیجے میں تقریباً 5 لاکھ فلسطینی ماہانہ غذائی امداد سے محروم ہوجائیں گے، جبکہ پہلے سے جاری بھوک اور غذائی قلت کے بحران میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے ۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق غزہ کی تقریباً دو تہائی آبادی، یعنی 14 لاکھ افراد، خوراک کی شدید قلت یا اس سے بھی بدترصورت حال کاسامنا کررہے ہیں، جن میں تقریباً 2 لاکھ افراد ہنگامی سطح کی غذائی عدم تحفظ کی کیفیت میں ہیں۔
غذائی امداد پانے والوں کی تعداد میں کمی
ڈبلیو ایف پی نے اعلان کیا ہے کہ ماہانہ غذائی امداد حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 16 لاکھ سے گھٹاکر 11 لاکھ کردی جائے گی۔ اس کے علاوہ غذائی راشن نصف کردیا گیا ہے،جبکہ 75 ہزار خاندانوں کے لیے نقد امداد بھی کم کردی گئی ہے۔
ادارے نے ان افراد کے لیے یومیہ تیارکھانوں کی تعداد بھی ڈھائی لاکھ سے کم کرکے ڈیڑھ لاکھ کردی ہے جو کھانا پکانے کی سہولت نہیں رکھتے۔ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں مقیم بعض خاندانوں کواب روزانہ کے بجائے ایک دن چھوڑ کر گرم کھانا مل سکے گا۔ یہ کٹوتیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب غزہ کے لاکھوں باشندے پہلے ہی خوراک، رہائش اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔
جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی زندگی دشوار
غزہ میں ڈبلیو ایف پی کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل اسکاو نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کو ایک سال گزرنے کے باوجود علاقے میں زندگی اب بھی انتہائی کٹھن ہے۔
انہوں نے کہا کہیہاں مناسب پناہ گاہیں نہیں، بنیادی خدمات دستیاب نہیں اور نہ ہی لوگوں کو تحفظ اور سلامتی حاصل ہے۔ اسکاو کے مطابق امداد میں یہ کٹوتیاں ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب غزہ کے باشندے چوتھی سردیوں کا سامنا کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سردیاں انتہائی سخت ہوتی ہیں اور بے گھر افراد کے لیے ان حالات میں زندگی گزارنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔
امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے 45 کروڑ ڈالر درکار
ڈبلیوایف پی نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی اہم امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے آئندہ چھ ماہ کے دوران 45 کروڑ ڈالر کی فوری ضرورت ظاہر کی ہے۔
کارل اسکاو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ کی صورت حال سے نظریں نہ چرائے بلکہ امدادی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے، اب تک ہونے والی پیش رفت کے تحفظ اور ابتدائی بحالی کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون میں اضافہ کرے۔
جنگ بندی کے باوجود معاہدےپرمحدودپیش رفت
گزشتہ سال امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی غزہ جنگ بندی میں علاقے کی تعمیرنوکا منصوبہ بھی شامل ہے، تاہم تنازع ختم کرنے کے معاہدے پر عمل درآمد میں اب تک محدود پیش رفت ہوئی ہے۔ معاہدے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی شرائط بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے 60 فیصد سے زیادہ علاقے پر قابض ہیں اور تقریباً روزانہ فضائی حملے کرتی ہیں، جبکہ حماس کا کنٹرول اس علاقے کے بیشتر حصے پر برقرار ہے جہاں 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینی آباد ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد عارضی خیموں اور پناہ گاہوں میں رہ رہی ہے، جہاں امدادی اداروں کے مطابق ضروری سامان کی فراہمی ناکافی ہے۔
امداد میں کٹوتی سے قحط کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ
حماس کے زیر انتظام غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے ڈبلیو ایف پی کے اعلان کو ’’تباہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امداد میں کمی سے علاقے میں قحط کی صورت حال مزید تیزی سے پیدا ہوسکتی ہے۔ دفتر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ قحط کے خطرے کو روکنے کے لیے امدادی اداروں کو مزید فنڈز فراہم کیے جائیں۔
غزہ کے وسطی علاقے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں ایک عارضی خیمے کے قریب موجود فلسطینی خاتون صابرین کہیل نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ، تباہی، محاصرے اور مسلسل خونریزی نے گزشتہ تین برس سے لوگوں کو بھوک میں مبتلا کررکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات میں زندگی پہلے ہی مشکل ہے، اب آپ اسے مزید دشوار بنانا چاہتے ہیں۔ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ بس کیجیے، ہم تھک چکے ہیں۔
غزہ میں امدادی فنڈز کی کمی اور خوراک کی مسلسل قلت نے ایک بار پھر اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود لاکھوں فلسطینیوں کے لیے بھوک، بے گھری اور بنیادی سہولتوں سے محرومی کا بحران ختم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوسکتا ہے۔






