جنگ میں زخمی، علاج میں بے یار و مددگار؟ امریکی فوجیوں نے طبی نظام پر سوال اٹھا دیے

Published On: 06 October, 2026 08:57 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
جنگ میں زخمی، علاج میں بے یار و مددگار؟ امریکی فوجیوں نے طبی نظام پر سوال اٹھا دیے

(فوٹواے پی)

ایران کے ڈرون حملے میں زخمی ہونے والے کئی امریکی فوجیوں نے علاج اور طبی سہولیات کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ انہیں اپنی چوٹوں کی سنگینی ثابت کرنے، اسپتال تک پہنچنے اور اس کے بعد مناسب علاج کے لیے خود جدوجہد کرنا پڑی۔تاہم امریکی محکمہ دفاع نے ان الزامات کی تردید کی ہے ۔

یکم مارچ کوایران کے ایک ڈرون حملے میں کویت کی بندرگاہ شعیبہ(ٖPort Shuaiba) میں اہم فوجی رسد کی لاجسٹک معاونت پر مامور 6 امریکی فوجی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ کے دوسرے روز ہوا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نو زخمی امریکی فوجیوں نے بتایا کہ حملے کے بعد طبی نظام نے کئی مواقع پر انہیں تنہا چھوڑ دیا اور انہیں خود ہی اپنے علاج کے لیے راستے تلاش کرنا پڑے۔ یہ فوجی اب بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

کرنل کی کہانی ، کرنل کی زبانی
امریکی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل آرٹورو لنکون حملے کے وقت دھماکے سے محض تقریباً سات فٹ دور تھے۔ ان کے جسم میں چھرے (shrapnel ) اس طرح پیوست ہوئے جیسے شیشہ ٹوٹ کر بکھر جائے۔ایک ٹکڑا ان کے جبڑے کے بائیں جانب جا دھسا، جبکہ دوسرا ٹکڑا لعابی غدود کو چیرتا ہوا جبڑے سے ٹکرایا اور گردن کے پچھلے حصے میں جا پیوست ہوا۔ اس دوران ایک شریان کٹ گئی اور دھات کا ٹکڑا ریڑھ کی ایک مہرے میں جا لگا۔

لنکون کے بائیں جانب موجود ورٹیبرل شریان کو بھی نقصان پہنچا، جو دماغ تک خون پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس چوٹ کے باعث انہیں فالج کا خطرہ لاحق تھا۔ تاہم امریکی فوج نے ان کی حالت کو اتنا سنگین قرار نہیں دیا کہ انہیں جرمنی کے لینڈسٹول ریجنل میڈیکل سینٹر میں داخل کیا جاتا۔

لنکون کے مطابق، اسپتال کی ایک نرس نے انہیں دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا کہ وہ زندہ کیسے بچ گئے، لیکن انہیں اسپتال کے بجائے قریبی فوجی بیرکوں میں بھیج دیا گیا اور کہا گیا کہ وہ بیرونی مریض کی حیثیت سے علاج کے لیے اپائنٹمنٹ لیں۔

لنکون کہتے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں بالکل اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہوں۔ وہ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

زخمی فوجیوں نے ایک دوسرے کی جانیں بچائیں
حملے کے فوری بعد زخمی فوجیوں نے ایک دوسرے کی مدد کی۔ امریکی فوجی ٹورنی کیٹ اور ابتدائی طبی امداد کے سامان سے لیس ہوتے ہیں، چنانچہ انہوں نے پہلے خود اپنے ساتھیوں کو طبی امداد دی اور پھر گوگل کے ذریعے کویت سٹی کے قریب ترین اسپتال کا راستہ تلاش کیا، جو تقریباً 20 منٹ کی مسافت پر تھا۔

شدید زخمی ہونے والے بعض فوجیوں کو دو روز کے اندر کویت سے طبی انخلا کے ذریعے منتقل کر دیا گیا۔ لنکون کو کویت کے ایک اسپتال میں ایک ہفتہ رکھا گیا، جہاں ان کے جبڑے سے دھات کے ٹکڑے نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا۔ ان کے مطابق ڈاکٹروں نے بتایا کہ دھماکے کی شدت سے انہیں دماغی چوٹ، یعنی ٹرامیٹک برین انجری (TBI)، بھی ہوئی۔ ان کے کان کا پردہ پھٹ گیا اور وہ کچھ دیر کے لیے بینائی سے بھی محروم رہے۔

چیف وارنٹ افسر فور رُوڈنی بیئرمن کے چہرے سے ٹانگوں تک جسم میں دھات کے ٹکڑے پیوست تھے۔ انہیں اور بعض دوسرے فوجیوں کو، جنہیں کویت میں مختصر طبی معائنہ فراہم کیا گیا تھا، کچھ عرصے کے لیے امریکی سرکاری ملازمین کے گھروں میں رکھا گیا، کیونکہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث طبی انخلا کی پروازیں خطرناک ہو گئی تھیں۔

حملے کے تقریباً 10 روز بعد زخمی فوجیوں کو ایک کارگو طیارے کے ذریعے جرمنی منتقل کیا گیا۔ انہیں طیارے کے فرش پر پٹیوں کے سہارے بٹھایا گیا۔ بیئرمن کے مطابق وہ اس قدر زخمی تھے کہ نہ مناسب طریقے سے کھا سکتے تھے اور نہ لیٹ سکتے تھے۔

جرمنی پہنچ کر ’جنگی زخمی‘ تسلیم نہ کیے جانے کا دعوی
بیئرمن کے مطابق جرمنی پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ فوجی ریکارڈ میں انہیں جنگی کارروائی میں زخمی ہونے والے فوجیوں کے طور پر درج ہی نہیں کیا گیا تھا۔ نتیجتاً انہیں لینڈسٹول اسپتال میں داخل کرنے کے بجائے بیرکوں میں بھیج دیا گیا اور بیرونی مریض کی حیثیت سے علاج کرانے کو کہا گیا۔

ان کے مطابق بعد میں بتایا گیا کہ یہ صورت حال ایک کوڈنگ کی غلطی کے باعث پیدا ہوئی تھی۔

تین دہائیوں سے زائد عرصے تک فوج میں خدمات انجام دینے والے بیئرمن، جو افغانستان میں بھی تعینات رہے، نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ زخمی ہونے کے بعد میرے ساتھ ایسا ہوگا۔ مجھے لگا تھا کہ جو  اعتماد میں نے فوج کے ساتھ قائم کیا ہے، وہ کبھی نہیں ٹوٹے گا، لیکن وہ ٹوٹ گیا

لنکون کا کہنا ہے کہ جرمنی میں انہیں کئی روز تک درد کی دوا بھی نہیں ملی۔ ان کے پاس کویت کے طبی ریکارڈ کی ایک سی ڈی موجود تھی، جو انہوں نے لینڈسٹول کے ایمرجنسی ڈاکٹر کو دکھائی۔ ڈاکٹر نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ انہیں اب تک ٹراما ٹیم نے معائنہ نہیں کیا تھا۔

پینٹاگون: تمام زخمی فوجیوں کا کیا گیا طبی معائنہ 
امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں لینڈسٹول اسپتال کا بنیادی مقصد مریضوں کو مستحکم کرنا اور ضرورت پڑنے پر امریکہ کے فوجی اسپتالوں میں مزید خصوصی علاج کے لیے منتقل کرنا ہے، نہ کہ ہر مریض کو طویل عرصے کے لیے داخل رکھنا

پینٹاگون کے مطابق اس کے طبی مراکز پہنچنے والے تمام زخمی فوجیوں کا معائنہ کیا جاتا ہے اور داخلے کا فیصلہ چوٹ کی شدت کی بنیاد پر ڈاکٹر کرتے ہیں، جو صحت کے شعبے میں رائج طبی طریقہ کار پر عمل کرتے ہیں۔

تاہم زخمی فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی چوٹوں کی سنگینی کا اندازہ لگانے اور مناسب علاج تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اے پی کے مطابق گزشتہ برسوں میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کم ہونے کے ساتھ خطے میں امریکا کے زیر انتظام بڑے طبی مراکز بھی بند کیے گئے۔ مثال کے طور پر عراق کے جوائنٹ بیس بلد میں موجود ایئر فورس تھیٹر اسپتال کو 2011 میں انخلا کی پالیسی کے تحت عراقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

دماغی چوٹوں کی تشخیص میں بھی تاخیر
حملے میں زخمی بعض فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہیں کئی ہفتوں یا مہینوں بعد اپنی دماغی چوٹوں کی تشخیص ہوئی۔میجر اسٹیفن ریمز باٹم کے سر سے دھات کا ٹکڑا نکالا گیا، لیکن ان کے مطابق انہیں ایم آر آئی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے چار ماہ سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔

وہ کہتے ہیں کہ مجھے ہر چیز کے لیے اپنا کیس خود تیار کرنا پڑا۔ یہ انتہائی مایوس کن ہے۔

اے پی کو فراہم کیے گئے طبی ریکارڈ کے مطابق ریمز باٹم اور ایک دوسرے افسر میں ٹرامیٹک برین انجری کی تشخیص فورٹ ہُڈ، ٹیکساس پہنچنے کے بعد ہوئی۔

دوسرے افسر نے بتایا کہ دھماکے سے وہ اپنی کرسی سے اچھل کر دور جا گرے تھے۔ تشخیص کے باوجود انہیں کئی ہفتوں تک علاج نہیں ملا اور بالآخر انہیں خود ہی ایسے ماہر ڈاکٹر کی تلاش کرنا پڑی جو دماغی چوٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دھندلی بینائی کا علاج کر سکے۔

میجر بلی کی کا کہنا ہے کہ انہیں سر کی چوٹ، سماعت سے محرومی اور دھوئیں سے پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان کے لیے خصوصی علاج اپریل کے وسط تک نہیں مل سکا، جب انہیں ایک فوجی ریکوری یونٹ بھیجا گیا۔انہوں نے کہاکہ اس میں بہت زیادہ وقت لگ گیا۔

 
  ماہرین کوبھی تاخیر پر تشویش
فوجی دماغی چوٹوں پر کام کرنے والی ’اِنویزیبل واؤنڈز فاؤنڈیشن‘ کے چیف سائنٹیفک میڈیکل افسر ڈاکٹر جیمز کیلی کے مطابق ٹرامیٹک برین انجری کی تشخیص میں ضرورت سے زیادہ تاخیر اب بھی غیر معمولی نہیں ہے۔

ان کے مطابق تشخیص میں تاخیر سے زخمی فوجیوں کو بروقت علاج حاصل کرنے کا موقع متاثر ہوسکتا ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں مناسب علاج بہتر نتائج کے لیے اہم ہوتا ہے۔

کیلی نے کہا کہ جنگی حالات میں ایسی تاخیر اب بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی مکمل طبی معائنہ کسی تربیت یافتہ طبی ماہر کو کرنا چاہیے، محض کسی دوسرے فوجی کو نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طبی ریکارڈ میں بعض اوقات صرف ’کنکشن‘ یعنی دماغی جھٹکے کا ذکر کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ دراصل ہلکی نوعیت کی ٹرامیٹک برین انجری ہی ہوتی ہے اور اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

حملے کے کئی ماہ بعد بھی مشکلات برقرار
لیفٹیننٹ کرنل لنکون نے میری لینڈ کے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں سات ہفتے تک خصوصی بیرونی مریض کی حیثیت سے علاج کرایا، جس کے بعد انہیں واپس کنساس بھیج دیا گیا۔

ان کے جسم میں اب بھی دھات کا ایک ٹکڑا موجود ہے، کیونکہ وہ ریڑھ کی ہڈی کے اتنا قریب ہے کہ اسے نکالنے کی کوشش سے مستقل مفلوج ہونے کا خطرہ ہے۔ لنکون کے مطابق انہیں اب بھی چکر آنے کی شکایت رہتی ہے، جس سے ان کی روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔


انہیں پرپل ہارٹ سے بھی نوازا گیا اور وہ دوبارہ فعال فوجی حیثیت سے فورٹ لیون ورتھ میں انسٹرکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم طبی مشکلات کے علاوہ انہیں دیگر مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

حملے میں ان کا پاسپورٹ تباہ ہوگیا تھا۔ بعد میں انہیں صرف ایک سال کے لیے عارضی پاسپورٹ جاری کیا گیا اور امریکی شہریت ثابت کرنے کے لیے مزید دستاویزات طلب کی گئیں۔ اے پی کی جانب سے امریکی محکمہ خارجہ سے رابطے کے بعد لنکون کو بتایا گیا کہ مزید دستاویزات طلب کرنا ایک غلطی تھی اور انہیں 10 سال کے لیے کارآمد پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔

1995 میں ویسٹ پوائنٹ سے گریجویشن کرنے والے لنکون نے کہاکہ میں تین مختلف جنگوں میں لڑنے کے لیے کافی امریکی ہوں۔

طبی ریکارڈ اور مالی معاوضے کا معاملہ بھی متنازع
لنکون کو اپنے طبی ریکارڈ کے نامکمل ہونے پر بھی تشویش ہے۔ ان کے مطابق سروس ممبرز گروپ لائف انشورنس کے تحت ٹرامیٹک انجری بینیفٹ کے لیے ان کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا، کیونکہ سماعت سے متعلق نقصان مقررہ حد تک نہیں پہنچتا تھا۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ فیصلے میں ان کی دیگر طبی مشکلات کا جائزہ ہی نہیں لیا گیا۔ یہ پروگرام شدید نوعیت کی چوٹوں کا شکار ہونے والے فوجیوں کو مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ اے پی کے سوالات پر امریکی فوج کے ہیومن ریسورسز کمانڈ نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

لنکون، جو حملے میں زندہ بچ گئے، کہتے ہیں میں خوش قسمت ہوں کہ زندہ بچ گیا اور میں اسی طرح اسے دیکھتا ہوں۔ اس وقت اسے دیکھنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

زخمی فوجیوں کی یہ شکایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب کئی امریکی حکومتوں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے اور خطے میں طویل جنگی مداخلت ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ فوجیوں کے مطابق اس طویل المدت انخلا اور سرمایہ کاری میں کمی کے نتیجے میں خطے میں امریکہ کے زیر انتظام بڑے طبی مراکز بھی باقی نہیں رہے۔