(فوٹورائٹرز)
ایران کے حملوں کا خلیجی ممالک کے پاس کوجواب نہ تھا۔ ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ ضرور کیا گیا لیکن نقصانات کو چھپانے کوششیں کارگر ثابت نہیں ہوئیں ۔ رائٹرز کی تحقیق نے سچ سامنے لادیا ہے۔
ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادی عرب ممالک کوگہرے زخم دیئے ہیں ۔ اس نے جنگ کے دوران خلیجی عرب ممالک میں اہم اقتصادی اور توانائی تنصیبات کو منظم انداز میں نشانہ بنایا ۔ ان حملوں کے نتیجے میں بعض مقامات پر ضروری آلات ناکارہ ہو گئے، پیداواری سرگرمیاں کئی ہفتوں یا مہینوں تک متاثر رہیں اور مرمت و بحالی پر بھاری اخراجات کا خدشہ پیدا ہوا۔ رائٹرز کی تفصیلی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان حملوں میں بعض اہداف کا انتخاب اس انداز سے کیا گیا کہ محدود نقصان بھی پورے نظام کی کارکردگی کو متاثر کر سکے۔
تحقیقات کے مطابق، 28 فروری سے اب تک ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، عراق، قطر، کویت، عمان اور بحرین میں کم از کم 84 اہم تنصیبات پر 135 ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ ان میں تیل کی ترسیل کے نظام، گیس پروسیسنگ پلانٹس، ریفائنریاں، ہوائی اڈے، بجلی و پانی کے مراکز اور ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں۔ ان حملوں نے خطے میں عدم تحفظ بڑھایا، تیل کی قیمتوں آگ لگی اور امریکہ کی فوجی برتری کے باوجود ایران کی جوابی کارروائیوں کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ اہم تنصیبات کو درست نشانے پر حملوں کا خطرہ ایران کو خلیجی ممالک اور عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے، جس سے امریکہ کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات میں بھی اسے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
رائٹرز نے 36 ایسے افراد سے بات کی جوان حملوں یا متاثرہ تنصیبات کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ تصاویر، ویڈیوز، ریڈار اور موسمیاتی سیٹلائٹ ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے نے اپنی تحقیقات متاثرہ تنصیبات کے منتظمین اور متعلقہ حکومتوں کے سامنے بھی رکھیں۔ تحقیقات کا جائزہ لینے والے 14 ماہرین اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد نے اس امکان کو انتہائی کم قرار دیا کہ درجنوں اہم تنصیبات کے حساس آلات کو پہنچنے والا نقصان محض فضا میں تباہ کیے گئے میزائلوں یا ڈرونز کے ملبے کے اتفاقاً گرنے سے ہوا ہو۔ ان کے مطابق، بعض مقامات پر دھماکوں کے آثار اور نشانہ بنائے گئے آلات کی اہمیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حملوں میں مخصوص اہداف کا انتخاب کیا گیا تھا۔
تاہم، رائٹرز کے مطابق، ہر مقام پر فضائی دفاعی نظام کی کامیابی اور نقصان کی مکمل نوعیت کا تعین ممکن نہیں تھا، کیونکہ نمائندے تمام مقامات کا براہِ راست معائنہ نہیں کر سکے۔
فجیرہ بندرگاہ: آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ بھی نشانے پر
متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ جنگ کے دوران ایران کے سب سے زیادہ نشانہ بننے والے مقامات میں شامل رہی۔ آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ بندرگاہ یو اے ای کے لیے تیل کی ترسیل کا ایک اہم متبادل راستہ ہے، جہاں سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود تیل برآمد کیا جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ جنگ کے دوران ایران کے سب سے زیادہ نشانہ بننے والے مقامات میں شامل رہی۔ آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ بندرگاہ یو اے ای کے لیے تیل کی ترسیل کا ایک اہم متبادل راستہ ہے، جہاں سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود تیل برآمد کیا جا سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے بعد فجیرہ پر کم از کم 19 مرتبہ ایرانی ڈرون اور میزائل حملے ہوئے۔ مارچ کے ابتدائی دنوں میں ہونے والے حملوں سے تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں اور تیل کی ترسیل کے اہم نظام کو نقصان پہنچا۔ بعض مقامات پر آگ لگنے کے آثار سیٹلائٹ تصاویر میں بھی دکھائی دیے، جبکہ تیل ذخیرہ کرنے والی دو کمپنیوں نے اپنی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں۔
9 مارچ کے حملے میں تیل کی ترسیل کا ایک اہم نظام متاثر ہوا، جسے میٹرکس مینی فولڈ کہا جاتا ہے۔ یہ 62 پائپ لائنوں پر مشتمل نظام ہے، جو تیل کے ٹرمینلز سے جہازوں پر تیل لادنے کے مقامات تک خام تیل اور تیار شدہ پٹرولیم مصنوعات پہنچاتا ہے۔ بعد کے حملوں میں اس نظام کے دوسرے حصے کو بھی نقصان پہنچا۔
یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے پیٹرولیم انجینئرنگ کے پروفیسر رامنن کرشن مورتی نے رائٹرز کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اس نوعیت کے حساس نظام کو محض گرتے ہوئے ملبے سے نقصان پہنچنے کا دعویٰ قابلِ یقین نہیں لگتا۔
مارچ کے وسط میں حملوں کے بعد فجیرہ سے تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی۔ تجزیاتی ادارے Kpler کے اعداد و شمار کے مطابق، 16 مارچ سے شروع ہونے والے ہفتے میں برآمدات تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ رہ گئیں، جو 2025 کی یومیہ اوسط کے نصف سے بھی کم تھیں۔
6 اپریل کو ایک اور حملے میں تیل کی ترسیل کے اہم آلات رکھنے والی عمارت متاثر ہوئی، جبکہ 4 مئی کو ہونے والے ڈرون حملے میں پہلے سے متاثرہ نظام سے منسلک پائپوں کو نقصان پہنچا۔ اس کے بعد فجیرہ سے تیار شدہ پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات تقریباً ایک ماہ تک معطل رہیں۔ 4 مئی سے یکم جون کے درمیان صرف ایک جہاز وہاں سے روانہ ہوا، جبکہ ان مصنوعات کی برآمدات ستمبر تک معمول پر نہ آ سکیں۔
رائٹرز کے مطابق، فجیرہ پر مسلسل حملوں کے باوجود مارچ کے آخر میں اس کی مجموعی برآمدات ایک ہفتے میں ریکارڈ 32 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھیں۔ ستمبر میں بندرگاہ کی مجموعی برآمدات 26 لاکھ 20 ہزار بیرل یومیہ کی ماہانہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔
یو اے ای نے مئی کے حملے کی تصدیق کی تھی، تاہم اس سے پہلے کئی مواقع پر حکام نے نقصان کی وجہ ایرانی ڈرون یا میزائلوں کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے کو قرار دیا تھا۔
رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ جون میں یو اے ای کی جانب سے ایرانی فنڈز پر پابندیوں میں نرمی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ انتظام کی خبریں سامنے آئیں۔ چار ذرائع نے کم از کم ایک ارب ڈالر نہیں بلکہ 10 ارب ڈالر کے فنڈز کھولنے کی بات بتائی، جن میں سے 3 ارب ڈالر جاری کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ دو ذرائع کے مطابق اس کے بدلے ایران نے یو اے ای پر حملے روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم، اماراتی وزارت خارجہ نے کسی منجمد ایرانی فنڈ کی منتقلی یا اس نوعیت کے معاہدے کی تردید کی۔ اگست میں ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے فنڈز کی منتقلی کی تصدیق کی، لیکن اسے حملوں کی روک تھام سے غیر متعلق قرار دیا۔
17 مئی کے بعد یو اے ای کی اہم تنصیبات پر کسی نئے حملے کی اطلاع نہیں ملی، اگرچہ ستمبر میں ایرانی حملوں میں اماراتی تیل بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی رپورٹ سامنے آئی۔
جوہری تنصیب پر حملہ اور حساس معلومات تک رسائی کا خدشہ
یو اے ای کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر 17 مئی کو حملہ بھی تحقیقات کا اہم حصہ ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق، یہ ڈرون عراق میں موجود مسلح گروہوں کی جانب سے بھیجے گئے تین ڈرونز میں سے ایک تھا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق، حملے میں پلانٹ کے ایک برقی سب اسٹیشن کو نقصان پہنچا، جس کے بعد چار ری ایکٹروں میں سے ایک کو ہنگامی ڈیزل جنریٹروں پر منتقل کرنا پڑا۔
سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے میں بجلی کی لائنوں کے کنٹرول سے متعلق عمارت کی چھت پر دو مقامات پر نقصان دکھائی دیا۔ یہ عمارت ایک ری ایکٹر سے تقریباً 130 میٹر کے فاصلے پر واقع تھی۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے موجود عناصر کو پلانٹ کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل تھیں اور وہ جانتے تھے کہ کس چیز کو نشانہ بنانا ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران کو روس اور چین سے انٹیلی جنس معلومات مل سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ایران کے لیے کام کرنے والے مخبروں کے ذریعے حساس مقامات کی تصاویر اور محلِ وقوع کی معلومات فراہم کیے جانے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رائٹرز سے بات کرنے والے تین عہدیداروں کے مطابق، ایران کے پاس براکہ پلانٹ کے نقشے اور وہاں موجود برقی سب اسٹیشن کے محلِ وقوع سے متعلق معلومات تھیں۔ تاہم، روس نے اس بارے میں تبصرہ نہیں کیا، جبکہ چین نے کہا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پابندی کرتا ہے۔
پلانٹ چلانے والی ایمریٹس نیوکلیئر انرجی کارپوریشن نے کہا کہ حفاظتی نظام نے حسبِ توقع کام کیا، تابکاری کا اخراج نہیں ہوا، کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور عوام یا ماحول کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔
کویت: تیل، بجلی اور پانی کے نظام پر حملے
کویت میں جنگ کے آغاز ہی سے توانائی کی برآمدات، ریفائنریوں اور ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ دارالحکومت کویت سٹی سے تقریباً 50 کلومیٹر جنوب میں واقع صنعتی علاقے میں مینا الاحمدی اور مینا عبداللہ ریفائنریاں، شویبہ بندرگاہ اور بجلی و پانی صاف کرنے کا مشترکہ پلانٹ شامل ہیں۔
جنگ کے پہلے دن شویبہ بندرگاہ کے قریب ملبہ گرنے کے بعد کویت پورٹ اتھارٹی نے 24 گھنٹوں کے لیے سرگرمیاں معطل کر دی تھیں۔ اگلے تین ہفتوں میں مینا الاحمدی اور مینا عبداللہ ریفائنریاں بھی حملوں کی زد میں آئیں۔
ٹینکرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے TankerTrackers کے مطابق، کویت نے اپریل میں خام تیل کا ایک بیرل بھی برآمد نہیں کیا۔ 1991 کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ ملک کی خام تیل کی برآمدات مکمل طور پر رک گئیں۔ جولائی کے آخر تک سیٹلائٹ تصاویر میں شویبہ صنعتی علاقے کی کم از کم 13 عمارتوں یا تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے آثار دکھائی دیے۔
کویت کے لیے پانی کا بحران بھی ایک سنگین خدشہ بن گیا۔ ملک اپنے پینے کے پانی کی تقریباً 90 فیصد ضروریات سمندری پانی صاف کرنے والے پلانٹس سے پوری کرتا ہے۔ ان میں سے کئی پلانٹس بجلی گھروں کے ساتھ قائم ہیں، کیونکہ پانی کو صاف کرنے کے عمل میں بڑی مقدار میں حرارت اور بجلی درکار ہوتی ہے۔
رائٹرز کی تحقیقات کے مطابق، 2 مارچ سے 20 جولائی کے درمیان ایران نے کویت کے آٹھ مشترکہ بجلی اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس میں سے کم از کم چار کو نشانہ بنایا۔ جولائی میں چار دن کے ایک عرصے کے دوران بھی کئی پلانٹس پر حملے ہوئے، جن میں ایک پلانٹ کو کم از کم دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔
یونیورسٹی آف یوٹاہ کے مڈل ایسٹ سینٹر کے ڈائریکٹر مائیکل کرسٹوفر لو کے مطابق، کویت کے پاس اپنے ڈی سیلینیشن پلانٹس کے بغیر طویل عرصے تک زندہ رہنے کے لیے پانی کے قدرتی وسائل نہیں ہیں۔ ان کی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی صورت میں ملک کو چند دنوں یا ہفتوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قطر کی گیس تنصیبات کو نقصان
قطر کے راس لفان مائع قدرتی گیس (LNG) کمپلیکس پر حملوں نے عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کیے۔ عالمی خبررساں ادارے کے مطابق، ایران کے حملوں میں گیس کو مائع شکل میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اہم آلات، جنہیں کولڈ باکس کہا جاتا ہے، متاثر ہوئے۔
قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو سعد الکعبی نے مارچ میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ دو حملوں میں تباہ ہونے والے اہم کولڈ باکسز کی مکمل مرمت میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ ان حملوں سے عالمی مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد سپلائی کو خطرہ لاحق ہوا۔
راس لفان کے علاوہ قطر کی پرل گیس ٹو لیکوئڈز ریفائنری، یو اے ای کا حبشان گیس کمپلیکس اور ایمریٹس گلوبل ایلومینیم کا الطویلہ پلانٹ بھی ان تنصیبات میں شامل ہیں جن کی مکمل بحالی میں ایک سال یا اس سے زیادہ وقت لگنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کی ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے سربراہ سلطان الجابر نے کہا کہ حملوں میں ہوائی اڈوں، ٹرمینلز، ریفائنریوں، گیس پروسیسنگ پلانٹس، رہائشی علاقوں، شاپنگ مالز اور براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سمیت شہری استعمال کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد صرف عمارتوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ خطے کے لوگوں کے طرزِ زندگی کو متاثر کرنا بھی ہے۔
ایلومینیم کی پیداوار متاثر، عالمی قیمتوں میں اضافہ
یو اے ای میں ایمریٹس گلوبل ایلومینیم کے الطویلہ اسملٹر پر حملے نے صنعتی پیداوار کو شدید نقصان پہنچایا۔ رائٹرز کے مطابق، حملے میں پلانٹ کے بجلی گھر اور ایلومینیم پگھلانے والی پیداواری لائنوں میں سے ایک کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں تمام 1,262 اسملٹنگ سیلز کی سرگرمیاں رک گئیں۔
کمپنی کے مطابق، تقریباً دو ماہ بعد پہلی سیل دوبارہ شروع کی جا سکی۔ اگست کے آخر تک صرف ایک چوتھائی سیلز بحال ہو پائی تھیں اور پیداوار معمول پر آنے کی توقع 2027 تک ظاہر کی گئی۔
ایلومینیم کی صنعت میں 42 سال کا تجربہ رکھنے والے فرینک ڈیوس نے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ بجلی گھر کو نقصان پہنچنے سے پورے پلانٹ کی سرگرمیاں رک سکتی ہیں، خواہ دیگر پیداواری لائنیں براہِ راست متاثر نہ ہوئی ہوں۔
یو اے ای کے پلانٹ اور بحرین کے ایک اسملٹر پر حملوں کے بعد عالمی ایلومینیم کی قیمت میں 5 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور ہوائی اڈے بھی نشانے پر
ایران کے حملے تیل اور گیس کی تنصیبات تک محدود نہیں رہے۔ بحرین، کویت، یو اے ای اور سعودی عرب کے ہوائی اڈے بھی نشانہ بنے۔ کویت کے ہوائی اڈے پر آٹھ مرتبہ حملہ کیا گیا، جن میں سے ایک حملہ اس وقت ہوا جب ایک بڑے ٹرمینل کی مرمت مکمل ہونے کے بعد اسے دوبارہ کھولا گیا تھا۔
سعودی عرب کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں سے منسوب حملے میں 12 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی، جو اس رپورٹ میں بیان کردہ ہوائی اڈوں پر حملوں میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز واقعہ تھا۔
ایران سے منسلک حملوں میں یو اے ای اور بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹرز بھی متاثر ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق، بحرین میں ایک ڈیٹا زون کی خدمات چھ ماہ بعد بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی تھیں، کیونکہ متاثرہ آلات کی مرمت ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔ ایمیزون نے اپنی جانب سے حملوں کی تفصیلات پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم کمپنی نے ستمبر میں جاری اپنے بیان کا حوالہ دیا جس میں علاقائی خدمات بحال کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کی بات کہی گئی تھی۔
سعودی عرب کی تیل کی صنعت کو اربوں ڈالر کا نقصان
سعودی عرب، جو خلیجی خطے میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جنگ کے دوران توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے بری طرح متاثر ہوا۔ ملک دنیا کے خام تیل کی پیداوار کا تقریباً 10 فیصد پیدا کرتا ہے اور اس کی برآمدات کے لیے خلیج فارس اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہیں اہم ہیں۔
سعودی تیل کی بڑی مقدار راس تنورہ بندرگاہ سے برآمد ہوتی ہے، جبکہ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر اہمیت رکھتی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد ینبع اور وہاں تک تیل پہنچانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے خصوصی اہمیت اختیار کر گئی۔
رائٹرز کے مطابق، مارچ اور اپریل میں ایران سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ینبع کو کم از کم دو مرتبہ ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ 19 مارچ کو سعودی آرامکو موبل ریفائنری پر حملے کے بعد اس کی پیداواری صلاحیت 9 اپریل تک تقریباً 70 فیصد رہ گئی۔
جولائی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا انتظام ختم ہونے کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے بحیرہ احمر سے وابستہ تیل کے مراکز پر حملے تیز کر دیے۔ رائٹرز کے مطابق، 13 جولائی کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں نے میزائل اور ڈرون سازوسامان کے ساتھ یمن کا سفر کیا تھا۔ اس کے بعد 25 جولائی سے 7 ستمبر کے درمیان جازان ریفائنری پر کم از کم چار حملے ہوئے۔
جازان ریفائنری کے ٹینک فارم اور اس سے متصل گیس کمپلیکس کو نقصان پہنچا، جس کے بعد وہاں تیل صاف کرنے کی سرگرمیاں رک گئیں۔ رائٹرز کے مطابق، 24 جولائی کے بعد سے وہاں صرف ایک جہاز پر تیل لادا گیا۔
مجموعی طور پر جنگ کے آغاز سے ایران سے منسلک حملوں میں سعودی عرب کی نو بڑی ریفائنریوں میں سے پانچ اور تیل پراسیسنگ کے تین بڑے مراکز کو نقصان پہنچا۔ سعودی عرب کی یومیہ تیل پیداوار جنگ کے ابتدائی چھ ماہ میں بیشتر عرصے کے دوران 70 لاکھ بیرل سے کم رہی، جبکہ جنگ سے پہلے یہ 1 کروڑ بیرل یومیہ سے زیادہ تھی۔ رائٹرز کے تخمینے کے مطابق، موجودہ قیمتوں پر اس کمی سے 50 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔
ایکسون موبل اور شیل جیسی بڑی مغربی توانائی کمپنیوں نے بھی اپنے مشترکہ منصوبوں میں حملوں کے باعث کروڑوں ڈالر کے نقصانات کی اطلاع دی۔
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملہ
7 ستمبر کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ خطے میں تیل اور گیس کی پیداوار کا نظام وسیع، قابلِ رسائی اور حملوں کے سامنے غیر محفوظ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلیج میں امریکی تیل و گیس کمپنیوں اور ان کی تنصیبات کو بھی اسی خطرے کا سامنا ہے۔
اس کے تین دن بعد سعودی صحرا میں واقع تین پمپنگ اسٹیشنوں پر فضائی حملہ ہوا۔ ان میں سے ایک اسٹیشن بری طرح تباہ ہو گیا اور ینبع کی جانب ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترسیل رک گئی۔ اس حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز سے بچ کر تیل برآمد کرنے کا ایک اہم متبادل راستہ ہے۔ اس کی بندش نے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک اور خطرہ پیدا کر دیا۔
امریکہ اور خلیجی ممالک کا موقف
امریکہ کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ترجمان امریکی بحریہ کے کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ امریکہ ایران کے خطرات کے بارے میں واضح موقف رکھتا ہے اور اپنے علاقائی شراکت داروں کے دفاع میں ہزاروں ڈرون اور میزائل روک چکا ہے۔ ان کے مطابق، ایران نے ایک درجن سے زیادہ پڑوسی ممالک اور سیکڑوں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر لاکھوں نہیں بلکہ خطے میں رہنے والے لاکھوں افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔
امریکی حکام ایران کی تباہ کن صلاحیت کو کم اہمیت دیتے رہے ہیں، جبکہ خلیجی حکومتوں نے متعدد حملوں کے بعد نقصان کی وجہ روکے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا ملبہ گرنے کو قرار دیا۔ رائٹرز کے مطابق، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور سعودی عرب میں حملوں کے بعد مخصوص تصاویر اور ویڈیوز بنانے یا پھیلانے پر پابندیاں بھی عائد ہیں۔ ان ممالک میں افواہوں اور غلط معلومات کی روک تھام سے متعلق قوانین کے تحت رپورٹنگ کو محدود کیا جاتا ہے۔
بحرین کی حکومت نے کہا کہ ایسی پابندیوں کا مقصد عوامی تحفظ، تحقیقات کی سالمیت اور حساس مواد کے ذریعے مزید حملوں کی منصوبہ بندی کو روکنا ہے۔ یو اے ای نے بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور وسیع تر جنگ کو روکنے کے لیے نئی سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب، ایران کے جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے مشن نے رائٹرز کی تفصیلی سوالات پر مبنی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ قطر، سعودی عرب، کویت، عراق اور ابوظبی نیشنل آئل کمپنی نے بھی اس رپورٹ کے لیے تبصرہ نہیں کیا۔
ایران کے حملوں کی حکمتِ عملی اور عالمی معیشت پر اثرات
رائٹرز کی تحقیقات کے مطابق، ایران کی حکمتِ عملی صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایسے اقتصادی نظاموں کو بھی متاثر کیا گیا جن پر تیل و گیس کی پیداوار، پانی کی فراہمی، بجلی، ہوابازی اور عالمی تجارت کا انحصار ہے۔
امریکی میرین کور کے سابق افسر اور فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کے ماہر ریان اسٹیونز نے ان حملوں میں نشانے کے انتخاب، اہداف کے بارے میں مہارت اور صبر و منصوبہ بندی کو نمایاں قرار دیا۔
فجیرہ سے لے کر قطر کے راس لفان، کویت کے پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن تک، مختلف حملوں نے یہ دکھایا کہ کسی بڑے صنعتی نظام کے ایک حساس حصے کو نقصان پہنچانے سے اس کی مجموعی کارکردگی طویل عرصے تک متاثر ہو سکتی ہے۔
جنگ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت مارچ، اپریل اور مئی میں بعض اوقات 120 ڈالر فی بیرل کے قریب یا اس سے اوپر پہنچ گئی، جبکہ فروری میں یہ تقریباً 70 ڈالر تھی۔ رپورٹ میں بیان کردہ تازہ ترین قیمت 106 ڈالر فی بیرل تھی۔
ان حالات میں ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت، خلیجی ممالک کے توانائی کے نظام کی کمزوریاں اور آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر اہم برآمدی راستوں اور صنعتی تنصیبات کی بحالی میں طویل وقت لگتا ہے تو اس کے اثرات توانائی کی قیمتوں، صنعتی پیداوار اور عالمی تجارتی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔






