(فوٹورائٹرز)
ایران میں اسکول اور اسپورٹس کمپلیکس پر ہونے والے امریکی حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی مشن کی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشن نے دونوں حملوں میں امریکی افواج کے ملوث ہونے اور انہیں جنگی جرائم کے زمرے میں شامل کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایران سے متعلق آزادبین الاقوامی تحقیقاتی مشن نے کہا ہے کہ اسے معقول بنیادوں پر یقین ہے کہ 28 فروری کو ایران میں ایک اسکول اور اسپورٹس کمپلیکس پر کیے گئے امریکی حملوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا ۔ مشن کے مطابق میناب میں ایک پرائمری اسکول پر حملے میں 120بچوں سمیت 156 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ دوسرے حملے میں 22 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو ہرمزگان صوبے کے شہر میناب میں واقع شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پرایک امریکی ٹوماہاک میزائل گرا،جس سے عمارت کی چھت منہدم ہوگئی ۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق اسکول ایک واضح طور پرقابل شناخت شہری عمارت تھی اورتحقیقات کے دوران ایسا کوئی ثبوت نہیں ملاکہ اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیاجارہاتھا۔
اقوام متحدہ کا امریکی کارروائیوں سے متعلق اہم انکشاف
مشن کے مطابق امریکی افواج نے اس کارروائی کے لیے ایسی انٹیلی جنس پر انحصارکیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈراس مقام پر موجود ہے، تاہم حملے سے قبل اس اطلاع کی مناسب طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہدف سے متعلق انٹیلی جنس کو اپ ڈیٹ نہ کرنا اور عمارت کی فوجی حیثیت کی تصدیق میں ناکامی محض غفلت سے آگے کی بات تھی۔ مشن کے مطابق امریکی افواج اس بات کے نمایاں خطرے سے آگاہ تھیں کہ حملے میں ایک شہری عمارت کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسکول پر حملے کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، لہٰذا یہ بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔
اسی روز جنوبی ایران کے شہر لامرد میں ایک واضح طور پر قابل شناخت اسپورٹس کمپلیکس اور رہائشی علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایسا ہتھیار استعمال کیا گیا جس سے ٹنگسٹن کے چھروں کی بڑی تعداد پھیلی، جبکہ قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک اسکول کو بھی نقصان پہنچا۔ اس واقعے میں 22 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔
مشن نے اس حملے کو بھی اندھادھند قراردیتے ہوئے جنگی جرم کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے مارچ میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے اس روزلامرد شہر کے اندر کوئی حملہ نہیں کیا۔
میناب میں اسکول پر حملے کے معاملے پرٹرمپ نے کیا کہا تھا
دوسری جانب امریکی حکام پہلے کہہ چکے ہیں کہ فوجی کارروائیاں مسلح تنازعات کے قانون کے مطابق کی جاتی ہیں۔ جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ ایران میں فروری کے دوران کسی نے جان بوجھ کر لڑکیوں کے اسکول کو نشانہ نہیں بنایا جبکہ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اس تحقیقات کے نتائج تاحال منظرعام پرنہیں آئے ہیں ۔
ایرانی کریک ڈاؤن پر بھی سنگین الزامات
تحقیقاتی مشن نے اسی رپورٹ میں ایرانی حکام کے خلاف بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ مشن کے مطابق دسمبر2025 کے آخر میں شروع ہونے والے حکومت مخالف احتجاج کے دوران ایرانی حکام نے شہریوں کے خلاف وسیع اور منظم کارروائیاں کیں جن میں غیر قانونی ہلاکتیں، تشدد، من مانی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں اور آزادی اظہار پر سخت پابندیاں شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت نے احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی ذمہ داری ’دہشت گردوں اور فسادیوں‘ اور بیرون ملک موجود مخالفین پر عائد کی تھی، جنہیں ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہونے کا الزام لگایا۔
اقوام متحدہ کے مشن نے کہا کہ وہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا، تاہم اس کا خیال ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق احتجاج کے دوران 3,038 افراد ہلاک اور 25 ہزار زخمی ہوئے۔مشن کے مطابق احتجاج سے نمٹنے کے لیے تشدد، ہلاکتوں، انٹرنیٹ کی بندش اور سزائے موت کے استعمال نے اختلافِ رائے کو دبانے کے سابقہ طریقوں کے مقابلے میں نمایاں شدت کی نشاندہی کی۔






