(فوٹورائٹرز)
مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں، یورپی سفارت کاروں اور فرانس کے ایک میئر پر حملہ کیا۔ بیلجیم نے ذمہ داروں کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اسرائیلی پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے ہفتے کے روز فلسطینی شہریوں، یورپی سفارت کاروں اور فرانس کے ایک میئر پر حملہ کیا۔ بیلجیم کے وزیر خارجہ میکسم پریوو(Maxime Prevot ) کے مطابق حملے میں فلسطینیوں کے لیے بیلجیم کے قونصل جنرل، فرانسیسی اور پولش سفارت کاروں اور کیتھولک نمائندوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ بیلجیم کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔
یہ واقعہ ایک روز قبل پیش آنے والے اس حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں نقاب پوش یہودی آبادکاروں نے مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی میں مصروف فلسطینیوں پر حملہ کیا تھا۔ اس واقعے میں امریکی شہری اور واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوین( Heidi Levine) زخمی ہوگئی تھیں، جنہیں اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔
بیلجیم کے وزیر خارجہ میکسم پریوو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیلی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حفاظت کریں، سفارت کاروں اور میڈیا نمائندوں کی سلامتی یقینی بنائیں اور حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ انہوں نے کہا کہ پُرتشدد اسرائیلی آبادکاروں کو حاصل استثنیٰ ختم ہونا چاہیے۔
حملے کی کہانی فرانسیسی میئرکی زبانی
شمالی فرانس کے قصبے اولنوا ایمیری (Aulnoye-Aymeries)کے میئر برنارڈ بودو(Bernard Baudoux) نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہ فلسطینی گاؤں طیبہ کے قریب مقامی آبادی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے زیتون کی فصل کی کٹائی میں حصہ لے رہے تھے، جب نقاب پوش آبادکاروں نے ان پر حملہ کیا۔
بودو کے مطابق انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زمین پر گرا دیا گیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو اسرائیلی بلوائی قرار دیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفارت کاروں کو اپنے دورے کے بارے میں اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطہ رکھناچاہیے تھا۔
سائر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس طرح کی رابطہ کاری سے دورے پر آنے والے افراد کی سلامتی یقینی بنانے میں مدد مل سکتی تھی۔
دوسری جانب فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ(Palestinian Vice President Hussein al-Sheikh) نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کو روزانہ پیش آنے والی دہشت گردی کی ایک چھوٹی سی مثال قرار دیا۔
اسرائیلی حکام، بشمول وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو، ماضی میں آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کرتے رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں۔ فلسطینیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس موقف سے اختلاف کیا ہے۔
مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ
گزشتہ تین برس کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر یہودی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں صحافیوں، کارکنوں اور غیر ملکی مبصرین کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
جمعے کے روز نقاب پوش آبادکاروں کے ایک گروہ نے مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کاٹنے والے فلسطینیوں پر حملہ کیا۔ امریکی شہری اور واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوین بھی اس واقعے کی کوریج کر رہی تھیں، جب ان پر حملہ کیا گیا۔ زخمی ہونے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
بیلجیم کے وزیر خارجہ پریوو نے کہا کہ فلسطینیوں کو روزانہ ایسے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آبادکار ان واقعات کی رپورٹنگ کرنے والے میڈیا نمائندوں اور سفارت کاروں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے مطابق زیتون کی فصل کاٹنے، خبریں رپورٹ کرنے یا سفارتی فرائض انجام دینے کی وجہ سے کسی کو بھی حملے کے خطرے سے دوچار نہیں ہونا چاہیے۔
بیلجیم برہم،یورپی یونین سے پابندیوں کا مطالبہ
بیلجیم نے مغربی کنارے اور گولان کی پہاڑیوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کا اعلان کر رکھا ہے۔ پریوو نے کہا کہ ان کا ملک تشدد کے ذمہ داروں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کے لیے دباؤ ڈالے گا۔
پولینڈ کی وزارت خارجہ کے ترجمان میچئی ویوئیرنے بھی ایکس پر بتایا کہ سفارت کاروں کو لے جانے والے ایک قافلے پر حملہ کیا گیا، جس میں پولینڈ کے اہلکار بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق پولش سفارت کار محفوظ رہے۔انہوں نے کہا کہ سفارتی عملے کے ارکان پر حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔
اسرائیلی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم فوری طور پر کسی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف پُرتشدد جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے والے اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف قانونی کارروائی شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔






