لبنان میں اسرائیلی جارحیت،22 فیصد بچے بھوکے سونے پر مجبور۔ یونیسیف

Published On: 04 October, 2026 12:01 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
لبنان میں اسرائیلی جارحیت،22 فیصد بچے بھوکے سونے پر مجبور۔ یونیسیف

(فوٹورائٹرز)

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے لبنان میں جنگ اور نقل مکانی کے باعث بچوں کو درپیش شدید محرومیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے عروج پر لبنان میں تقریباً 12 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، جن میں سے تقریباً 3 لاکھ 40 ہزار افراد اب بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے ہیں۔ ان افراد میں تقریباً ایک تہائی بچے ہیں۔
 
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران جنگ کے نتیجے میں اوسطاً روزانہ 7 بچے ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ زخمی ہونے والے بچوں میں اندازاً 12 فیصد اب مستقل معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
 
بچوں کی صحت بھی شدید متاثر
جنگ کے باعث گھر بار اور روزگار سے محروم ہونے والے خاندانوں کے لیے بچوں کی طبی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ یونیسیف کے مطابق 71 فیصد خاندان اپنے بچوں کی طبی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جو چھ ماہ قبل کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
 
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 38 فیصد خاندانوں کو بچوں کے لیے  درکار ادویات دستیاب نہیں، جبکہ 31 فیصد نے بتایا کہ ان کے بچوں کو مطلوبہ طبی سہولت نہیں مل سکی، جس کی بڑی وجہ علاج کے اخراجات ہیں۔ تقریباً 6 فیصد خاندان نے بتایا کہ جنگ کے باعث ان کے بچے بیمار یا زخمی ہوئے، تاہم ان بچوں میں سے 34 فیصد کو ضروری علاج نہیں مل سکا۔
 
پانی کے نظام میں خلل سے بھی صورتحال مزید سنگین ہوئی ہے۔ یونیسیف کے مطابق 7 لاکھ سے زائد افراد، جن میں 2 لاکھ 38 ہزار بچے شامل ہیں، پانی کی فراہمی میں رکاوٹوں سے متاثر ہوئے، جس سے قابلِ تدارک متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

22 فیصد بچے بھوکے سونے پر مجبور
معاشی مشکلات نے بچوں کی خوراک کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ 82 فیصد گھرانوں نے بتایا کہ تین ماہ پہلے کے مقابلے میں اب وہ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔
 
یونیسیف کے مطابق سروے سے قبل دو ہفتوں کے دوران 22 فیصد خاندانوں نے بتایا کہ ان کے بچے بھوکے سوئے، جبکہ 55 فیصد گھرانے اپنے بچوں کو دن میں تین وقت کا کھانا فراہم کرنے سے قاصر رہے۔

پانچ سال سے کم عمر بچوں والے گھرانوں میں صرف 10 فیصد خاندان اپنے بچوں کو مناسب اور متنوع غذا فراہم کرنے کے قابل تھے۔معاشی دباؤ کے باعث بچوں سے مشقت لینے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 14 فیصد خاندانوں نے بتایا کہ ان کے کم از کم ایک بچے کو کام کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جبکہ جنوری 2025 میں یہ شرح 6 فیصد تھی۔

تعلیمی اداروں کو بھی جنگ سے پہنچا نقصان
یونیسیف نے متنبہ کیا ہے کہ جنگ کے تعلیمی نظام پر پڑنے والے اثرات کے طویل مدتی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

جنگ کے عروج پر لبنان کے 433 سرکاری تعلیمی اداروں کو عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا، جو ملک کے سرکاری اسکولوں کے تقریباً ایک تہائی کے برابر ہیں۔ اس کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ بچوں کے کلاس رومز تک رسائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران 436 اسکولوں کو نقصان پہنچا، جبکہ 37 اسکول مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

76 فیصد خاندانوں نے بتایا کہ تین ماہ پہلے کے مقابلے میں اب وہ اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 46 فیصد خاندانوں کو تعلیم سے متعلق اخراجات کم کرنا پڑے، جبکہ 17 فیصد نے دستیاب اسکول نہ ملنے کے باعث اپنے بچوں کی تعلیم روک دی۔

رپورٹ کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک گھرانے نے بتایا کہ ان کے بچے گزشتہ سال اسکول نہیں گئے۔ اسکول جانے والے بچوں میں بھی 29 فیصد مکمل طور پر سیکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جس کی وجوہات میں توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور جذباتی دباؤ شامل ہیں۔

یونیسیف لبنان کے نمائندے مارکولوئیجی کورسی نے خبردار کیا کہ فوری اور مسلسل اقدامات نہ کیے گئے تو لبنان کے بچوں اور نوجوانوں کی ایک پوری نسل اس بحران کے اثرات اپنے بالغ ہونے تک اپنے ساتھ لے کر چل سکتی ہے۔