(فوٹواے پی)
محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ انھوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں اور آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کی۔ انھوں نے اسرائیلی اور امریکی منصوبے کا زکر کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ فلسطینی اپنی سرزمین کسی صورت نہیں چھوڑیں گے ۔
فلسطینی صدرمحمودعباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں غزہ اورمقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں، یہودی بستیوں کی توسیع اورآبادکاروں کے تشددکوشدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی اپنے وطن سے دستبردار نہیں ہوں گے اور نہ ہی جبری بے دخلی قبول کریں گے۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور امن منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
جمعرات کواقوام متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی سے محمود عباس نے ورچوئل خطاب کیا۔ وہ مسلسل دوسرے سال امریکی ویزا نہ ملنے کے باعث اجلاس عام میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کرسکے اور رام اللہ سے ریکارڈ شدہ خطاب پیش کیا۔
فلسطینی صدر نے اپنے خطاب میں واضح الفاظ میں کہا کہ ہم اپنا وطن نہیں چھوڑیں گے، ہم بے دخلی قبول نہیں کریں گے اور کسی کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ فوجی قبضہ،اسرائیلی بستیوں کی توسیع،الحاق اور آبادکاروں کا تشدد فلسطینی مسئلے کا حل نہیں بن سکتے اور نہ ہی ان اقدامات سے دیرپا سلامتی قائم ہوسکتی ہے۔
عباس نے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کو فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں محلے، شہر، پناہ گزین کیمپ، اسکول، جامعات، اسپتال، مساجد اور گرجا گھر تباہ ہوچکے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر دنیا کب تک خاموش رہے گی اور اسرائیل کو وہ ہتھیار فراہم کرتی رہے گی جو فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیے جارہے ہیں۔
محمود عباس نے غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے اس منصوبے کی حمایت کی تھی، تاہم اس پر عملی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ ان کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کا عمل بھی تعطل کا شکار ہے جبکہ اسرائیلی حملوں اور کارروائیوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتیں جاری ہیں۔
فلسطینی صدر نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ایک ایسی آزاد اور غیر عسکری فلسطینی ریاست کا قیام ہے جو قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کا احترام کرے اور اسرائیل کے ساتھ امن و سلامتی کے ماحول میں قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل کو بچانے کے لیے ان علاقوں کا تحفظ ضروری ہے جہاں مستقبل میں فلسطینی ریاست قائم ہونی ہے۔ ان کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع اس حل کے لیے سنگین رکاوٹ ہے۔
غزہ کی جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں ۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر ہلاکت و تباہی اور مغربی کنارے میں تشدد، بے دخلی اور بستیوں کی توسیع دو ریاستی حل کو مزید خطرے میں ڈال رہی ہے۔






