(فوٹواے پی)
امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین پر امریکی وعدوں اور اصلاحات پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے محمود عباس سمیت دیگر فلسطینی حکام کے ویزوں پر پابندیاں برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
واشنگٹن نے فلسطینی صدرمحمود عباس کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب امریکہ نے عباس اور دیگر فلسطینی حکام کو نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روکنے کے لیے ویزا پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کےروز کانگریس کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا کہ تنظیم آزادی فلسطین (PLO) اور فلسطینی اتھارٹی (PA) امریکی قوانین کے تحت کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ایک بار پھر ناکام رہی ہیں۔ واشنگٹن کے مطابق فلسطینی حکام نے ایسے اقدامات جاری رکھے ہیں جنہیں امریکہ، اسرائیل فلسطین تنازع کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کی کوشش سمجھتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں بین الاقوامی عدالتوں میں فلسطین کی سرگرمیوں، بالخصوص بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور عالمی عدالت انصاف (ICJ) سے متعلق اقدامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ امریکی موقف کے مطابق فلسطینی حکام مذاکرات کے بجائے فلسطینی ریاست کو یک طرفہ طور پر تسلیم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ ایسے افراد کو مالی معاونت دیتے ہیں جنہیں امریکہ دہشت گردی سے جوڑتا ہے جبکہ فلسطینی حکام کے عوامی بیانات اور اسکولوں کی درسی کتب میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور ان میں ملوث افراد کی تعریف و توصیف بھی کی جاتی ہے۔ یہ الزامات امریکی حکومت کے موقف کے طور پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔
محکمہ خارجہ کے مطابق اصلاحات کے حوالے سے مطلوبہ اقدامات نہ کیے جانے کے نتیجے میں امریکہ پی ایل او کے ارکان اور فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں کے ویزے مسترد کرنے سے متعلق پابندیوں کو مزید برقرار رکھے گا۔
امریکی اقدام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے چند روز قبل سامنے آیا ہے، جس کا اعلیٰ سطحی اجلاس نیویارک میں شروع ہونے والا ہے۔
گزشتہ سال بھی واشنگٹن نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل فلسطینی حکام کے ویزے مسترد یا منسوخ کیے تھے۔ اس کے نتیجے میں محمود عباس نیویارک پہنچ کر ذاتی طور پر خطاب نہیں کرسکے تھے اور انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا۔
اس سال بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 17 ستمبر کو ایک قرارداد کے ذریعے محمود عباس کو ویڈیو کے ذریعے اجلاس سے خطاب کی اجازت دینے کی منظوری دی۔ قرارداد 152 ووٹوں سے منظور ہوئی، جبکہ 3 ارکان نے مخالفت اور 4 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یوں محمود عباس کے لیے اس سال بھی جنرل اسمبلی سے براہِ راست خطاب کے بجائے ویڈیو پیغام کے ذریعے شرکت کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ فلسطینی حکام نے امریکی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ یورپی یونین نے بھی واشنگٹن پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔






