ٹرمپ کی دھمکی، پیزشکیان کا اعلان، سر تسلیم خم نہیں کرے گا ایران

Published On: 23 September, 2026 11:16 PM

WhatsApp
Facebook
Twitter
ٹرمپ کی دھمکی، پیزشکیان کا اعلان،  سر تسلیم خم نہیں کرے گا ایران

(فوٹواے پی)

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو ’مٹا دینے‘ کی دھمکی کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران طاقت کی زبان قبول کیے بغیر مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے تیار ہے۔

ایرانی صدرمسعود پیزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو تباہ کرنے اور مٹا دینے کی دھمکی کے ایک روز بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سخت لہجے میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم وہ طاقت کی زبان کے بغیر مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے تیار ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسعودپیزشکیان نے کہا کہ ایرانی عوام امریکی کارروائیوں کے ’متاثرین‘ ہیں۔ انہوں نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے صرف اپنا دفاع کیا ہے اور وہ دہشت گرد نہیں۔

ایرانی صدر نے خطاب کے دوران سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور جنگ کی ابتدائی لہر میں ہلاک ہونے والے 150 سے زائد ایرانی اسکول طلبہ کی تصاویر بھی اٹھا کر دکھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی شہریوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور ایران نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ دفاع کیا۔ پیزشکیان نے امریکہ کا نام لیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ہم پر حملہ کیا، لیکن ہم نے گھٹنے نہیں ٹیکے۔

انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران دباؤ یا دھمکی کے ذریعے مذاکرات پر مجبور نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بقول ٹرمپ اور ان تمام لوگوں کو سمجھنا ہوگا جو ہمیں دھمکانا چاہتے ہیں کہ ہم طاقت کی زبان قبول کیے بغیر مکالمے، سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

ٹرمپ کی ’ایران کومٹا دینے‘ کی دھمکی
پیزشکیان کا یہ خطاب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقوام متحدہ سے خطاب کے ایک روز بعد سامنے آیا، جس میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اسلامی جمہوریہ کو مٹا دینے کی دھمکی دی تھی۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے سامنے دو راستے ہیں: ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ جس کے ذریعے وہ دوبارہ تعمیر ہو سکے، یا پھر اسلامی جمہوریہ کو تیزی سے ’مٹا‘ دیا جائے۔ 

ٹرمپ کے خطاب کے چند گھنٹے بعد ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیویارک میں ایرانی حکام سے تقریباً تین گھنٹے ملاقات بھی کی۔ ٹرمپ نے ملاقات کو ’بہت اچھا‘ قرار دیا، تاہم تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ 

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان رابطوں کو کوئی نئی پیش رفت قرار دینے سے گریز کیا۔ ان کے مطابق تہران مذاکرات میں اپنے مؤقف پر قائم ہے اور امریکہ سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے اور منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ رابطے قطری ثالثی کے ذریعے ہوئے۔

 مذاکرات کا راستہ اب بھی ہے کھلا
پیزشکیان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ایران سفارت کاری کے ذریعے جنگ ختم کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا، تاہم تہران اپنی خودمختاری اور دفاع کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

ایرانی صدرنے آبنائے ہرمزکا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس آبی گزرگاہ سے سب کوفائدہ حاصل ہو اور ایران کو وہاں جہاز رانی سے محروم رکھا جائے، یہ قابل قبول نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں مستقل غیر ملکی جنگی بیڑوں کی موجودگی اور جنگ کا پھیلاؤ امن کا راستہ نہیں۔

آبنائے ہرمز جنگ سے قبل عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ تھی، جس کے باعث موجودہ تنازع کے دوران اس کی صورتحال عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بھی اہم بن گئی ہے۔ 

پیزشکیان کا خطاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے سے جاری مذاکرات کئی مرتبہ تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جون میں جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم بعد میں یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔

ایرانی صدر نے ایک جانب مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا، جبکہ دوسری جانب یہ پیغام بھی دیا کہ امریکی دباؤ یا فوجی دھمکیوں کے نتیجے میں تہران اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔

تاہم پیزشکیان کے اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع میں تردید سامنے آئی ہے کہ ایران نے شہری آبادیوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ جنگ کے دوران خطے میں ایرانی حملوں سے شہریوں، جن میں بحری جہازوں سے وابستہ افراد اور تارکینِ وطن کارکن بھی شامل ہیں، کی ہلاکتوں کی اطلاعات موجود ہیں۔