سعودی عرب میں حوثی حملے، عمرہ زائرین میں تشویش ، پروازیں متاثر

Published On: 15 October, 2026 12:17 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
سعودی عرب میں حوثی حملے، عمرہ زائرین میں تشویش ، پروازیں متاثر

(فوٹورائٹرز)

سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کے بعد عمرہ زائرین کی سلامتی اور فضائی سفر سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کئی زائرین کو اپنے سفری منصوبے تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، جب کہ بعض غیر ملکی شہری سڑک کے راستے قطر، بحرین اور دبئی پہنچ کر وہاں سے پروازیں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب میں حوثی باغیوں کے میزائل حملوں نے عمرہ زائرین سمیت دیگر مسافروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسلام کے مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کے لیے سعودی عرب پہنچنے والے کئی افراد اب فضائی حملوں کے خدشات اور پروازوں میں تعطل کے باعث اپنے سفر کے منصوبوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہیں۔

ہفتے کے روز ریاض کے ہوائی اڈے کے ڈیپارچر ٹرمینل پر حوثی میزائل حملے کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے میں 13 افراد کی ہلاکت اور 300 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کی ویڈیوز میں متعدد مسافروں کو  سفید لباس پہنے دیکھا گیا، جو عمرہ یا دیگر مذہبی مقاصد کے لیے سفر کر رہے تھے۔

سعودی میڈیا کے مطابق، حملے میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ایک امام بھی حملے ہلاک ہو گئے، جو درجنوں زائرین کے ایک گروپ کی قیادت کر رہے تھے۔ حملے میں دیگر افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

حوثی باغیوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کیا ہے، تاہم وہ سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

 حملوں کے خدشات سے زائرین پریشان
مکہ مکرمہ میں موجود اردن کے شہری فادی انور نے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وہ مسجد الحرام کے صحن میں احرام کی حالت میں موجود تھے۔

انور کے مطابق، حکام کی جانب سے موبائل فون پر مسلسل حفاظتی انتباہات موصول ہو رہے ہیں، جس سے ان کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب، سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مملکت محفوظ ہے اور یہاں آنے والے زائرین کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ تاہم، مغربی ممالک کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے بیشتر ہوائی اڈوں کے استعمال سے متعلق احتیاطی ہدایات جاری کی ہیں۔

 عمرہ زائرین کی آمد کا سلسلہ
اگرچہ بیرونِ ملک سے آنے والے بیشتر زائرین جدہ یا مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں کے ذریعے سعودی عرب پہنچتے ہیں، لیکن بڑی تعداد مملکت کے دیگر اہم فضائی مراکز، خصوصاً ریاض، سے بھی سفر کرتی ہے۔ ان میں سعودی عرب میں مقیم افراد بھی شامل ہیں۔

سوڈان کے شہری الامین حسن محمد بھی ان افراد میں شامل ہیں، جو سعودی عرب میں مقیم اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد عمرے کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ جانے والے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہفتے کے روز ریاض میں موجود تھے، جب حملے کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور انہیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ گھروں سے باہر نکلنا پڑا۔

الامین حسن محمد  کے مطابق، لوگ خوف زدہ اور پریشان تھے، اس لیے وہ باہر جمع ہوئے اور ایک دوسرے سے صورتِ حال پر بات چیت کی۔ ان کی شادی شدہ بیٹی سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے شہر دمام میں رہتی ہیں۔ یہ علاقہ ظہران کے قریب ہے، جہاں منگل کے روز حوثیوں نے سعودی آرامکو کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا۔ الامین حسن محمد پہلے بھی عمرہ ادا کرچکے ہیں ۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے بعض دوستوں کے سفری منصوبے ملتوی ہو گئے۔ ان کے مطابق، ان دوستوں نے پہلے ریاض کے راستے فضائی سفر کا ارادہ کیا تھا، لیکن بعد میں جدہ سے بحری جہاز کے ذریعے سوڈان واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

حج کے برعکس، جو صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے، عمرہ سال کے کسی بھی حصے میں ادا کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے مکہ مکرمہ میں سال بھر دنیا بھر سے زائرین کی آمد جاری رہتی ہے۔

منگل کے روز مسجد الحرام کے وسیع صحن میں احرام پہنے زائرین خانہ کعبہ کے گرد طواف کر رہے تھے۔ تاہم، خطے میں جاری کشیدگی نے کئی زائرین کو فکرمند کر دیا ہے۔

فادی انور نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آزمائش کو ان سے اور سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں سے دور رکھے۔

پروازیں تعطل کا شکار، کاروبار اور سفارتی سرگرمیاں بھی متاثر
سعودی عرب اور  حوثی باغیوں کے درمیان حملوں کا سلسلہ یمن میں خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ یہ صورتِ حال امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے علاقائی اثرات سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کو متعدد پروازیں معطل کرنا پڑی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد سے تاحال 31سو سے زائد پروازیں متاثر ہوچکی ہیں ۔ ریاض میں اس ہفتے اسکولوں میں درس وتدریس کا عمل  آن لائن ہورہا ہے ، جبکہ بعض دفاتر نے اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔

فضائی سفر میں خلل سے صرف عمرہ زائرین ہی نہیں، بلکہ سعودی عرب میں ہونے والی اہم کانفرنسوں میں شرکت کے لیے آنے والے کاروباری افراد، تعطیلات پر جانے کے خواہش مند سعودی شہری اور اپنے وطن واپس لوٹنے کے خواہش مند غیر ملکی باشندے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

 قطر، بحرین اور دبئی کے راستے متبادل سفر
ریاض سے پروازوں میں غیر یقینی صورتِ حال کے باعث کئی افراد متبادل راستے اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ بعض افراد بذریعہ سڑک  تقریباً چار گھنٹے کا سفر کرکے بحرین، سات گھنٹے میں قطر یا تقریباً دس گھنٹے میں دبئی پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ وہاں سے اپنی منزل کے لیے پرواز حاصل کر سکیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، بدھ کے روز ایک سینئر کاروباری عہدیدار غیر ملکی ملازمین کی نقل و حمل کے انتظامات میں مصروف تھا۔ ان ملازمین کو سڑک کے ذریعے قطر کے دارالحکومت دوحہ بھیجا جا رہا تھا، جہاں سے وہ آگے کا فضائی سفر کر سکتے تھے۔

ریاض میں موجود ایک سفارت کار نے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران متعدد سفارت خانوں نے سعودی عرب آنے جانے کے لیے دوحہ کا راستہ استعمال کیا۔ ان میں ایسے سفارتی اہلکار بھی شامل تھے، جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ عارضی طور پر سعودی عرب سے روانہ ہو رہے تھے۔

دوحہ اور دبئی کے لیے زمینی سفری سہولت فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے نمائندے کے مطابق، ان مقامات تک پہنچانے کے کرایے دگنے ہو گئے ہیں۔

تاہم، زیادہ کرایہ ادا کرنے کی آمادگی بھی سفر کی ضمانت نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایرانی حملوں کے باعث خلیجی خطے میں متعدد پروازیں متاثر ہوئی تھیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکیوں کے بعد اس تنازع کے پھر شدت اختیار کرنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔