(فوٹورائٹرز)
پیو ریسرچ سینٹر کے تازہ سروے کے مطابق سوشل میڈیا کو افواہوں اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سروے میں امریکہ سمیت کئی امیر ممالک میں سوشل میڈیا کے جمہوریت پر منفی اثرات کے بارے میں تشویش نمایاں رہی۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا کا غلغلہ ہے ۔ زندگی کے تمام شعبوں پر سوشل میڈیا کے اثرات نمایاں ہیں اور اس کے اثر میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے ۔ سوشل میڈیا کے معاشرے اور جمہوری عمل پر اثرات کے حوالے سے دنیا بھر میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
پیوریسرچ سینٹر( Pew Research Center) کے تازہ سروے کے مطابق زیادہ تعداد میں لوگ مانتے ہیں کہ سوشل میڈیا افواہیں پھیلانے، لوگوں کو بانٹنے اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکے بارے میں جہاں ایک طرف لوگوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ یہ انہیں معلومات فراہم کرتے اور سیاست میں آواز اٹھانے کا موقع دیتے ہیں، وہیں 2022 کے مقابلے میں اب زیادہ افراد سوشل میڈیا کو جمہوریت کے لیے ’بری چیز‘ قرار دے رہے ہیں۔
پیوریسرچ سینٹر نے بتایا کہ اس سروے میں 37 ممالک کے 45 ہزار سے زائد افراد کی رائے شامل کی گئی ہے جبکہ امریکہ میں سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق مزید 5,511 بالغ افراد سے بھی رائے لی گئی۔
امریکہ سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک میں تشویش زیادہ
سروے کے مطابق امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ سمیت نسبتاً زیادہ آمدنی والے ممالک میں لوگ سوشل میڈیا کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ سمجھنے کی جانب زیادہ مائل ہیں جبکہ کم مجموعی گھریلو پیداوار(GDP) والی معیشتوں، جیسے گھانا، کینیا اور نائیجیریا میں یہ تشویش نسبتاً کم ہے۔
امریکہ میں 64 فیصد بالغ نے کہا کہ سوشل میڈیا جمہوریت کو نقصان پہنچاتا ہے۔26 ایسے ممالک جہاں اس سے قبل بھی اسی نوعیت کا ڈیٹا دستیاب تھا، ان میں سے 16 ممالک میں سوشل میڈیا کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ ماننے والوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
آسٹریلیا میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی
سوشل میڈیا کے اثرات پر بڑھتی تشویش کے درمیان مختلف حکومتیں بھی ضابطے سخت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا نے صارفین کو الگورتھم(Algorithm) کے ذریعے تجویز کردہ فیڈ سے باہر نکلنے کا اختیار دینے کے لیے مجوزہ قواعد پیش کیے ہیں۔
آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی نافذ کی گئی ہے۔
پیو کے سروے کے مطابق 82 فیصد آسٹریلوی بالغ افرادحکومت کی جانب سے بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
دوسری جانب مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میٹا، اسنیپ اور ٹک ٹاک ، صارفین کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر ہزاروں مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں اور بعض معاملات میں بھاری رقوم کے تصفیے بھی کیے گئے ہیں۔
حکومتیں صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ اور سوشل میڈیا کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے مؤثر ضابطہ کار وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم عالمی سطح پر سوشل میڈیا کے سیاسی اور جمہوری اثرات پر بحث بدستور جاری ہے۔






