(فوٹو اے آئی)
غزہ میں تین سال سے جاری اسرائیلی جارحیت نے فلسطینیوں کی زندگی کا ہر پہلو بدل کر رکھ دیا ہے۔ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سے لے کر معیشت، تعلیم اور صحت کے نظام کے انہدام تک، جنگ نے غزہ کو شدید انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے، جہاں پانی، بجلی، خوراک، رہائش اور علاج روزمرہ بقا کا مسئلہ بن چکے ہیں۔
غزہ میں اسرائیل کی جنگ کو تین سال مکمل ہو چکے ہیں ۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیوں نے فلسطینی محصور علاقے کو اس حد تک بدل دیا ہے کہ اس کے بڑے حصے کی شناخت ہی تبدیل ہو چکی ہے۔
گھروں، رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم، معیشت اور دیگر ضروری عوامی خدمات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، تقریباً 20 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ میں بار بار کی جبری بے دخلی اور انخلا کے احکامات نے خاندانوں اور برادریوں کو بکھیر دیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے دوران 74,245 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اگرچہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس سے فلسطینیوں کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی 1,462 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ میں اسرائیلی حملے اور دیگر فوجی کارروائیاں جاری رہی ہیں۔
تین سالہ جنگ نے تعلیم، صحت اور معیشت کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے، جبکہ خوراک، پانی، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کا حصول لاکھوں فلسطینیوں کے لیے روزمرہ جدوجہد بن چکا ہے۔
بقا کی جنگ بن گئی روزمرہ زندگی
جنگ نے اہل غزہ سے صرف ان کے گھر ہی نہیں چھینے بلکہ روزمرہ زندگی گزارنے کا پورا طریقہ بدل دیا ہے۔
بہت سے فلسطینیوں کے لیے اب گھر، صاف پانی، بجلی اور آمدورفت جیسی بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں رہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر میں غزہ کی 94 فیصد آبادی کو فوری طور پر رہائش اور بنیادی گھریلو امداد کی ضرورت تھی، جبکہ 65 فیصد گھرانے خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے تھے۔
اسرائیلی حملوں اور جبری انخلا کے احکامات کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں کے پاس بستر، روشنی، کھانا پکانے کا سامان اور صفائی کی مناسب سہولتیں بھی موجود نہیں تھیں۔
پانی کا بحران بھی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگست کے اوائل میں جائزہ لیے گئے 91 فیصد گھرانے درمیانے سے شدید درجے کی آبی عدم تحفظ کا شکار تھے، جبکہ جون میں یہ شرح 84 فیصد تھی۔
بجلی کا نظام بھی تقریباً مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ غزہ میں باقاعدہ بجلی کی فراہمی نہ ہونے کے باعث گھرانے اور ضروری خدمات جنریٹرز پر انحصار کر رہے ہیں، مگر ایندھن، انجن آئل اور ضروری پرزوں کی شدید قلت اس سہولت کو بھی محدود کر رہی ہے۔
تباہ شدہ سڑکوں اور مواصلاتی نظام نے نقل و حرکت، فون اور انٹرنیٹ تک رسائی اور بنیادی خدمات کے حصول کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
یوں غزہ میں روزمرہ زندگی اب بقا کے گرد گھومتی ہے۔ پانی جمع کرنا، فون چارج کرنا، کھانا پکانا، کپڑے اور جسم صاف کرنا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسائل اور منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔
معیشت تباہ، نہیں روزگار
اسرائیلی جنگ نے غزہ کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کاروبار اور مقامی صنعتوں کی تباہی نے خاندانوں کی آمدنی ختم کر دی اور ان کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (UNCTAD) کے مطابق ستمبر میں غزہ کے 92 فیصد معاشی ادارے تباہ یا متاثر ہو چکے تھے، جبکہ بے روزگاری کی شرح 78 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
2025 میں غزہ میں فی کس مجموعی ملکی پیداوار (GDP) محض 212 ڈالررہ گئی، جو 2022 کی سطح کا تقریباً 17 فیصد ہے۔
زراعت اور صنعت 2022 کے مقابلے میں صرف 6 فیصد پیداوار پر رہ گئیں، جبکہ تعمیراتی شعبہ محض 1 فیصد کی سطح پر آ گیا۔
معاشی تباہی کے ساتھ بنیادی اشیا کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ ہوا۔ بیرونی دنیا کے ساتھ غزہ کی بیشتر تجارت تاریخی طور پر اسرائیلی کنٹرول والے راستوں سے ہوتی رہی ہے اور اشیا کی نقل و حرکت پر پابندیوں نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر میں اشیا کی قیمتیں اکتوبر 2023 سے قبل کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 200 فیصد زیادہ تھیں۔
روزگار اور آمدنی کے ذرائع ختم ہونے کے باعث معاشی سرگرمی کا بڑا حصہ اب امداد، قرض اور چھوٹے پیمانے کے غیر رسمی کاموں تک محدود ہو گیا ہے۔
معاشی محقق رامی الزیغ کے مطابق جنگ نے معاشرے کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ان کے مطابق لوگوں نے پرانے پیشوں کی طرف دوبارہ رجوع کیا ہے اور دستیاب بنیادی اوزار اور وسائل استعمال کرتے ہوئے روزگار کے نئے طریقے اختیار کیے ہیں۔
بہت سے خاندان اب انسانی امدادی اداروں کی جانب سے دی جانے والی نقد امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم نقد رقم بھی نایاب ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث لوگ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ای والٹس کا استعمال بڑھا رہے ہیں۔
بچوں کی تعلیم کا مستقبل خطرے میں
جنگ نے غزہ کے تعلیمی نظام کو بھی تقریباً تباہ کر دیا ہے۔ تقریباً تین برس سے لاکھوں بچوں کو باقاعدہ اسکول جانے کا موقع نہیں مل سکا۔
یونیسیف کے مطابق غزہ کے تقریباً 98 فیصد اسکول تباہ یا متاثر ہو چکے ہیں۔ اپریل 2026 تک 4 سے 17 سال عمر کے تقریباً 7 لاکھ بچے مسلسل تقریباً تین سال تک باقاعدہ اسکول کی تعلیم سے محروم رہے۔
بہت سے اسکول اب تعلیم کے مراکز کے بجائے بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔
کچھ بچے خیموں اور عارضی تعلیمی مراکز میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم تقریباً 2 لاکھ بچوں کو تعلیم تک رسائی حاصل نہیں۔
فلسطینی وزارتِ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ تعلیم میں طویل تعطل کے باعث بچوں کی بنیادی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور تعلیمی فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ تقریباً تین سال کی مسلسل تعلیمی رکاوٹ ایک پوری نسل کے مستقبل پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر
غزہ کا صحت کا نظام بھی جنگ سے تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق غزہ کے تمام 36 اسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے اور ان میں سے صرف 19 اسپتال فعال ہیں۔ تاہم کوئی بھی اسپتال مکمل صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر رہا۔
فعال رہنے والے چند مراکز بھی ضروری ادویات، طبی آلات، تشخیصی سامان اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس صورت حال نے کینسر کے علاج، ڈائیلاسس اور دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی دیکھ بھال کو شدید متاثر کیا ہے۔
غزہ سے باہر علاج کے لیے طبی انخلا بھی محدود رہا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 12,400 مریضوں کو طبی انخلا کے ذریعے باہر لے جایا گیا، لیکن WHO کے مطابق اب بھی دسیوں ہزار مریض ایسے ہیں جنہیں غزہ کے اندر دستیاب نہ ہونے والی خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔
صحت کے نظام کے انہدام کے ساتھ رہائشی حالات بگڑنے سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
WHO نے ستمبر میں خبردار کیا کہ گنجان آبادی، ناکافی رہائش، پانی اور صفائی کی ناقص سہولتیں وبائی امراض کے خطرے میں اضافہ کر رہی ہیں۔
ادارے کے مطابق غزہ کا صحت کا نظام ان بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے مسلسل انسانی امداد، ضروری ادویات و طبی آلات، اسپتالوں کی بحالی اور طبی انخلا میں اضافے کی ضرورت ہے۔
غزہ کی زمین بھی سکڑتی جا رہی ہے
جنگ نے غزہ کے جغرافیے کو بھی بدل دیا ہے۔ اسرائیلی فوجی کنٹرول اور رسائی پر پابندیوں نے علاقے کو تقسیم کر دیا ہے، جس کے باعث فلسطینیوں کے لیے اپنے گھروں، زرعی زمینوں اور اہم سہولتوں تک رسائی مزید محدود ہو گئی ہے۔
’یلو لائن‘ غزہ کے اندر ایک فوجی حد بندی ہے، جو اسرائیلی فوج کی تعیناتی اور محدود رسائی والے علاقوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے تحت اس لائن کے قیام کے بعد اسرائیل نے اسے آبادی والے علاقوں کے اندر مزید آگے بڑھایا، جس کے نتیجے میں مزید خاندانوں کو اپنے علاقوں سے نکلنا پڑا۔
ستمبر میں یورو میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا کہ اسرائیلی فوجی کنٹرول اور رسائی پر پابندیوں نے غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے کو متاثر کر رکھا ہے، جبکہ 20 لاکھ سے زائد فلسطینی 30 فیصد سے بھی کم علاقے میں محدود ہو گئے ہیں۔
رفح اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ مصر کی سرحد سے متصل جنوبی غزہ کا یہ شہر جنگ کے دوران پورے غزہ سے بے گھر ہو کر آنے والے 10 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے لیے پناہ گاہ بن گیا تھا۔
مئی 2024 میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مطابق 8 لاکھ سے زائد افراد رفح سے بے گھر ہوئے۔
آج رفح کے مغربی حصے ’مواصی رفح‘ کے علاوہ تقریباً پورا شہر اسرائیلی کنٹرول میں ہے، جس کے باعث رفح سے بے گھر ہونے والے فلسطینی اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکتے۔
یورو میڈ نے 29 ستمبر کو خبردار کیا کہ اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں میں توسیع جبری بے دخلی کو مستقل شکل دے رہی ہے، فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور زمینوں تک رسائی سے محروم کر رہی ہے اور واپسی کی کوئی ضمانت باقی نہیں رہی۔
نظامِ حکومت اور سکیورٹی بھی متاثر
جنگ سے قبل حماس 2007 سے غزہ کا انتظام چلا رہی تھی اور سول انتظامیہ کے ساتھ سکیورٹی کا نظام بھی اسی کے زیرِ انتظام تھا۔ جنگ نے اس پورے نظام کو شدید متاثر کر دیا اور غزہ کی سول انتظامیہ بری طرح کمزور ہو گئی۔
جولائی میں حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ انتظامی اختیارات ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ (NCAG) کے حوالے کرے گی۔ یہ جنگ کے بعد کے منصوبے کے تحت قائم کی گئی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی ہے، تاہم یہ منتقلی اب تک عمل میں نہیں آ سکی۔
جنگ نے امن و امان برقرار رکھنے والے اداروں کو بھی کمزور کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی مراکز کو بارہا نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے درمیان پولیس پر کم از کم 12 حملے کیے گئے، جن میں 53 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 35 پولیس اہلکار شامل تھے۔
اقوام متحدہ کے مطابق عوامی انتظامیہ کے اداروں کو نشانہ بنائے جانے سے افراتفری میں اضافہ اور شہریوں کے تحفظ کا نظام کمزور ہوا ہے۔
فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق نے بھی خبردار کیا ہے کہ پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں نے شہری تحفظ کے نظام کو کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سکیورٹی خلا، اغوا، املاک پر حملوں اور انسانی امداد کی لوٹ مار جیسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
تین سال بعد غزہ کہاں کھڑا ہے؟
تین سال کی جنگ نے غزہ میں صرف عمارتیں اور انفراسٹرکچر ہی تباہ نہیں کیے بلکہ معیشت، تعلیم، صحت، روزگار، رہائش اور عوامی خدمات کے پورے نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔
لاکھوں فلسطینی اب ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں گھر واپسی یقینی نہیں، تعلیم کا تسلسل ٹوٹ چکا ہے، علاج محدود ہے، روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور پانی، بجلی اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات بھی روزانہ کی جدوجہد بن چکی ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود غزہ کے مستقبل کے بارے میں اب بھی واضح راستہ موجود نہیں۔ تین سالہ جنگ نے ایک ایسا انسانی اور معاشی بحران چھوڑا ہے جس کے اثرات ختم ہونے میں شاید کئی دہائیاں لگیں۔






