ٹرمپ نے کی نیتن یاہو کی حمایت ،ایران جنگ پراختلافات کے باوجود بی بی کے ساتھ ٹرمپ

Published On: 18 October, 2026 11:10 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
ٹرمپ نے کی نیتن یاہو کی حمایت ،ایران جنگ پراختلافات کے باوجود بی بی کے ساتھ  ٹرمپ

(فوٹورائٹرز)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی حمایت کی ہے۔ واضح رہے کہ 27 اکتوبر کو اسرائیل میں انتخابات ہونے والے ہیں ۔ ایران جنگ اور غزہ جنگ بندی پر دونوں لیڈروں کے اختلافات کے درمیان اس حمایت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو انتخابی سیاست کے ایک اہم  مرحلے سے گزر رہے ہیں ۔ نیتن  یاہو کو داخلی اور خارجی دونوں محاذ پرمشکلات کا سامنا ہے۔  مختلف انتخابی جائزوں میں بھی نیتن یاہو کے لیے واضح اکثریت کی پیش گوئی نہیں کی گئی ہے  ۔ ایسی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کا نیتن یاہو کی تائید میں سامنے آنا پورے انتخابی مہم کے رُخ کو موڑسکتا ہے۔ تمام تر اختلافات کے باوجود ٹرمپ کا نیتن یاہو کی اُمیدواری کی حمایت کی ہے ۔ یہ اس بات کا  واضح اشارہ ہے کہ نیتن یاہو وائٹ ہاؤس کے لیے کتنے خاص ہیں۔
 
ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں نیتن یاہو کو ایک عظیم جنگجو وزیرِاعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف کارروائی میں امن کے لیے اس سے بھی زیادہ اہم شراکت دار ثابت ہوئے ہیں۔

 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل میں یہ پہلا الیکشن ہے۔ نیتن یاہو کے ٹرمپ سے قریبی تعلقات ہیں جو سیاسی طور پراہم  ہے۔ امریکی صدر کی حمایت میں تاخیر کوان کی انتخابی مہم کے لیے ایک دھچکا مانا جا رہا تھا، تاہم اب ٹرمپ نے کھل کر ان کی تائید کر دی ہے۔
نیتن یاہونے ٹرمپ کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے عبرانی زبان میں سوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس پرجاری بیان میں کہاکہ صدر ٹرمپ، زبردست حمایت اور مشترکہ کوششوں کے لیے آپ کا شکریہ۔ ہم مل کر مشن مکمل کریں گے!
اسرائیلی وزیرِاعظم کی  لیکوڈ پارٹی نے اس بیان کے ساتھ 35سیکنڈ کی ایک ویڈیو بھی جاری کی،جس میں دونوں لیڈروں کی ملاقاتوں کے مناظر اورٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی تعریف کے اقتباسات شامل تھے۔

ایران جنگ اور جنگ بندی پر اختلافات
فی الحال یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کی حمایت اسرائیلی انتخابات کے نتائج پرکس حد تک اثر انداز ہوگی۔ اسرائیل میں ٹرمپ اب بھی مقبول ہیں، لیکن ایران کے ساتھ جنگ کے غیر فیصلہ کن نتائج اور جنگ بندی کی امریکی تجویز پرمتعدد اسرائیلی شہریوں اور معروف مبصرین نے مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے جو اہم اہداف مقرر کیے تھے ، وہ مکمل طور پرحاصل نہیں ہو سکے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے خلاف کارروائی جلدمکمل کرنے کی دھمکی بھی دی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے تیزی سے اپنا طرزِعمل نہ بدلا تو امریکہ جلد ہی کام ختم کر دے گا۔ تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر نیتن یاہو انتخابات ہار گئے تو ممکن ہے وہ خود یہ کارروائی کرنے میں دلچسپی نہ رکھیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر اسرائیل کی قیادت نیتن یاہو کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ میں گئی تو امریکہ کو یہ کام خود کرنا پڑے گا، لیکن وہ ایسا کرنے کے خواہش مند نہیں ۔
 
امریکی صدر نے نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اسرائیل کے اندر سے سامنے آنے والی مخالفت سمیت شدید دباؤ کے باوجود مضبوطی، بہادری اور ذہانت کا مظاہرہ کیا ہے۔

ٹرمپ پہلے بھی کرچکے ہیں نیتن یاہو کی حمایت 
ٹرمپ ماضی میں بھی اسرائیلی انتخابات کے دوران نیتن یاہو کی حمایت کر چکے ہیں۔ گزشتہ برس نومبر میں انہوں نے اسرائیلی صدر ہرزوگ کو خط لکھ کر نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات میں صدارتی معافی دینے کی درخواست بھی کی تھی۔

تاہم حالیہ مہینوں میں ٹرمپ کے بیانات میں نیتن یاہو کی حمایت پہلے کے مقابلے میں محتاط رہی۔ جب ان سے بارہا پوچھا گیا کہ آیا وہ اسرائیلی وزیرِاعظم کی دوبارہ انتخابی مہم کی حمایت کریں گے تو انہوں نے واضح جواب دینے سے گریز کیا۔

اسی ماہ شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے ایک انٹرویو میں بھی ٹرمپ نے کہا تھاکہ اب میں سیاست میں ملوث نہیں ہوں۔ یہ بیان اس لیے قابلِ ذکر تھا کہ وہ امریکی سیاست دانوں کی انتخابی مہمات میں بھی حمایت اور توثیق کرتے رہے ہیں۔
اپنی دوسری صدارتی مدت میں ٹرمپ نے دیگر ممالک کے انتخابات میں بھی امیدواروں کی حمایت کی ہے اور کامیاب امیدواروں کی جیت کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی حمایت یافتہ شخصیات میں ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان شامل تھے، جو پانچویں مدت کے لیے اپنی انتخابی کوشش میں ناکام رہے۔ ٹرمپ نے جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی، پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی اور لاطینی امریکہ کے متعدد لیڈروں کی بھی حمایت کی ہے۔
 
ایران جنگ کے دوران واشنگٹن اور تل ابیب میں دوریاں
ٹرمپ اورنیتن یاہو طویل عرصے سے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد دونوں لیڈر پہلے سے زیادہ ہم آہنگ دکھائی دیتے تھے۔ تاہم رواں برس ایران کے ساتھ تقریباً 8 ماہ سے جاری جنگ کے دوران ان کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات سامنے آئے۔

جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایک اہم گیس فیلڈ پر حملے کے فیصلے پر ٹرمپ نے تنقید کی تھی۔ جون میں انہوں نے نیتن یاہو کو پاگل بھی قرار دیا تھا۔

ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی پر بھی ناراضی ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لڑائی کے باعث ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

ایران کے علاوہ غزہ کے معاملے پر بھی دونوں لیڈروں کے بیچ  اختلافات برقرار ہیں۔ اگست میں نیتن یاہو نے غزہ میں تعطل کا شکار جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی تازہ تجویز مسترد کر دی تھی۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نے غزہ کے ان علاقوں سے اسرائیلی فوج کی واپسی کے امریکی مطالبے کی مخالفت کی تھی جن پر اسرائیل کا کنٹرول ہے، جب تک حماس کو غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔

ٹرمپ کی تازہ حمایت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی انتخابات قریب ہیں اور ایران جنگ، غزہ میں جنگ بندی اور دونوں اتحادیوں کے درمیان اختلافات انتخابی مہم کے اہم پس منظر کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔