نواف سلام کا اقوام متحدہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ

Published On: 26 September, 2026 12:21 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
نواف سلام کا اقوام متحدہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ

(فوٹورائٹرز)

لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا، جنگ بندی پر مؤثر عمل درآمد اور لبنانی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نواف سلام نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو لبنان کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد تک لبنانی علاقے سے مکمل طور پر واپس جانا چاہیے جبکہ تمام لبنانی زیرحراست افراد کو بھی رہا کیا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ لبنان نے امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں تاکہ جنگ کا خاتمہ اور لبنان کی خودمختاری بحال کی جا سکے۔ ان کے مطابق کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا اندازہ ارادوں سے نہیں بلکہ کیے گئے وعدوں پرعمل درآمد سے ہوتا ہے۔

نواف سلام نے مطالبہ کیا کہ فریم ورک کو واضح ٹائم لائن اور مؤثر نگرانی کے نظام کے ساتھ عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے تاکہ اس کی تمام شقوں پرعمل درآمد یقینی بنایا جاسکے ۔ جون میں امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے فریم ورک میں اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور خالی کرائے گئے علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی بات کی گئی ہے۔ 

 جنوبی لبنان میں اسرائیل کے حملے جاری
ادھر، لبنانی وزیراعظم کے خطاب کے دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بھی جاری رہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق طیّبہ اور دیرسریان کے قریب ایک بڑے دھماکے کے علاوہ فروُن اور غندوریہ کے درمیان ایک وادی کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فروُن علاقے میں اسرائیلی جنگی طیاروں اور ڈرونز کی پروازیں جاری ہیں جبکہ اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری کے باعث آگ لگنے کے واقعات بھی ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض علاقوں میں لبنانی شہری دفاع اور فائر فائٹرز کو آگ بجھانے کے لیے پہنچنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ 

رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان کے 60 سے زائد قصبے اب بھی اسرائیلی فوج کے زیرقبضہ ہیں،جہاں مکانات کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فورسز پر الزام ہے کہ جنگ بندی کے فریم ورک کے باوجود لوگوں کے گھروں کو دھماکوں سے منہدم کیا جا رہا ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے جاری موجودہ جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 4,386 افراد جاں بحق اور 12,407 زخمی ہوچکے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے دریائے لیتانی تک تقریباً 600 مربع کلومیٹر لبنانی علاقے پر قبضہ کر رکھاہے۔

 حزب اللہ کے ہتھیاروں پر بھی موقف
نواف سلام نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اسرائیل کے مکمل انخلا کے ساتھ حزب اللہ کے ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں لانے کے عمل کی نگرانی کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہتھیار صرف ریاست کے ہاتھ میں ہونے چاہییں اور جنگ و امن سے متعلق فیصلے صرف آئینی اداروں کے اختیار میں ہونے چاہییں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی رواں ماہ لبنانی حکومت کی جانب سے ریاستی اداروں کے ہاتھ میں ہتھیاروں کے یکجاہونے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا تھا۔ 

سلام نے لبنان کی خودمختاری کے اصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون ایک جگہ ناقابلِ تنسیخ اور دوسری جگہ قابلِ گفت و شنید نہیں ہوسکتا اور اس کے اصول سب کے لیے یکساں ہونے چاہییں۔

 فلسطینی حقِ خود ارادیت پر زور
لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیداراستحکام فلسطینی عوام کے حقوق کے احترام کے بغیر ممکن نہیں۔ انھوں نے کہا کہ  لبنان میں دیرپا استحکام خطے میں پائیدار امن کے بغیر ممکن نہیں اور خطے میں اس وقت تک مکمل استحکام نہیں آسکتا جب تک اقوام متحدہ فلسطینی عوام کو دوسرے اقوام کی طرح اپنے مستقبل کے تعین کا ناقابلِ تنسیخ حق دلانے میں مؤثر کردار ادا نہیں کرتا۔