دو دہائیوں بعد عراق سے امریکی افواج کا انخلا،کیا ایران کے لیے میدان کھل گیا؟

Published On: 29 September, 2026 11:57 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
دو دہائیوں بعد عراق سے امریکی افواج کا انخلا،کیا ایران کے لیے میدان کھل گیا؟

(فوٹورائٹرز)

عراق سے امریکی فورسز بدھ تک ملک میں اپنے آخری فوجی اڈے بھی چھوڑ دیں گی۔ تاہم عراقی سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی عدم موجودگی سے ملک میں ایران نواز مسلح گروہوں کا اثر بڑھ سکتا ہے اور داعش کو بھی دوبارہ سراٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک موجود رہنے کے بعد امریکی افواج 30 ستمبر تک اپنی آخری فوجی تنصیبات بھی خالی کرنے جا رہی ہیں ۔ اس انخلا کو ایران اور اس کے حامی گروہ اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں جبکہ عراقی سکیورٹی ماہرین کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا سے ایران نواز مسلح گروہوں کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے اور داعش کے سلیپر سیلز بھی دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔ 

عراق سے امریکی انخلا، ایران کے لیے نئے امکانات؟
امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی عراق میں امریکی فوجی موجودگی کا وہ باب ختم ہو جائے گا جو 2003 میں شروع ہوا تھا اور جس کے دوران تقریباً 4,500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق،انخلا کا فیصلہ 2024 میں اس وقت کے  صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران امریکہ اور عراق کے درمیان طے پایا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کر رہی ہے۔ یہ انخلا ایسے وقت میں مکمل ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے۔ 

عراقی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت میں اتحادی افواج کے انخلا سے عراق میں ایران اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں کے لیے اپنا سیاسی اور سکیورٹی اثر و رسوخ بڑھانے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

عراقی سکیورٹی تجزیہ کار جاسم البہدلی کے مطابق اتحادی افواج کی روانگی ایران کے لیے اسٹریٹجک فائدہ ہے، کیونکہ اس سے عراق میں تہران کے اثر و رسوخ کے مقابل موجود ایک اہم فوجی قوت ختم ہو جائے گی۔ ان کے مطابق ایران نواز مسلح گروپ اس انخلا کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور سیاسی فیصلوں میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ 

ایران نواز گروہوں نے دیا ’تاریخی فتح‘ قرار
ایران نواز مسلح گروہوں نے امریکی انخلا کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔عراق کی ایران نواز تنظیم اسلامک ریزسٹنس اِن عراق کے کمانڈر ابو مجتبیٰ الیاسری نے امریکی انخلا کو ’’تاریخی فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 30 ستمبر عراق کی تاریخ میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوگا۔

ایران میں بھی امریکی افواج کے انخلا کو خطے سے امریکی فوجی موجودگی ختم کرنے کی اپنی وسیع تر حکمت عملی کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے نائب چیئرمین امیر حیات مقدم نے کہا کہ امریکی افواج کے عراق اور خطے سے نکلنے کے بعد عراق میں مستقل امن و سلامتی قائم ہو سکے گی۔ 

’عراق ابھی مکمل طور پر تیار نہیں‘
دوسری جانب عراق میں بعض سیاسی اور سکیورٹی حلقے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے وقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

فلوجہ کے سنی قبائلی رہنما عبدالرحمن الزبائی نے کہا کہ عراق ابھی سکیورٹی کی مکمل ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق تمام عراقی مکمل خودمختاری چاہتے ہیں، لیکن امریکی قیادت میں اتحادی افواج کا اس طرح انخلا ایک ایسا خلا پیدا کر سکتا ہے جس سے عراقی شہریوں کو خدشات ہیں۔

2003 سے 2011، پھر 2014 میں امریکی واپسی
امریکہ نے 2003 میں عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس کے بعد امریکی افواج نے عراق میں کئی برس تک قیام کیا اور مسلح مزاحمت کے خلاف کارروائیاں کیں، یہاں تک کہ 2011 کے آخر میں انخلا مکمل کر لیا گیا۔

تاہم 2014 میں داعش کے عروج کے بعد امریکی افواج دوبارہ عراق پہنچیں اور عراقی فورسز کو داعش کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کی۔ 2014 سے 2017 کے دوران داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں میں عراقی فورسز کو امریکی قیادت میں اتحادی افواج کی مدد حاصل رہی۔ 

گزشتہ برسوں میں عراق امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی سیاسی اور فوجی تعلقات رکھنے والا خطے کا اہم ملک رہا ہے۔ دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے دوران عراقی سرزمین کئی مرتبہ بالواسطہ محاذ بھی بنی۔

2020 میں امریکہ نے بغداد ایئرپورٹ کے قریب کارروائی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا تھا، جس کے بعد ایران نواز گروہوں نے عراق میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا۔

موجودہ ایران-امریکہ جنگ کے دوران عراق میں 18 امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں سے 7 کا تعلق عراق میں پیش آنے والے واقعات سے تھا۔ جولائی میں اربیل کے قریب ایک فوجی اڈے پر ڈرون کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران ایک امریکی فوجی سارجنٹ بھی ہلاک ہوا تھا۔ 

کیا داعش کو مل سکتا ہے دوبارہ موقع؟
امریکی انخلا کے ساتھ ایک بڑا خدشہ داعش کی ممکنہ واپسی کا بھی ہے۔

اگرچہ داعش نے تقریباً ایک دہائی قبل عراق میں اپنی نام نہاد خلافت کھو دی تھی لیکن اس کے سلیپر سیلز اب بھی موجود ہیں۔ عراقی وفاقی حکومت اور کردستان کے سکیورٹی حکام کے بعض عہدیداروں کے مطابق امریکی انٹیلی جنس، لاجسٹک مدد اور ڈرونز کی عدم موجودگی داعش کے لیے دوبارہ منظم ہونے کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ 

کرد کمانڈر سیرون بارزانی کے مطابق امریکی انخلا کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد گزشتہ دو ہفتوں کے دوران داعش کے سلیپر سیلز کی نقل و حرکت میں اضافہ محسوس کیا گیا ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ایک مشتبہ داعش سیل امریکی انخلا کے موقع پر خودکش حملوں کی تیاری کر رہا تھا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کئی سال کی فوجی کارروائیوں کے باوجود داعش اب بھی سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کرکوک کے ایک اعلیٰ سکیورٹی افسر کرنل خالد البیاتی کے مطابق داعش ایسے حملوں کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ تنظیم اب بھی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 

خطے میں طاقت کا نیا توازن؟
امریکی افواج کا عراق سے مکمل انخلا ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بغداد کو ایک طرف ایران نواز مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ اور دوسری طرف داعش کے ممکنہ دوبارہ منظم ہونے کے خدشات کا سامنا ہے۔

یوں امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ عراق کی خودمختاری کے حوالے سے ایک اہم مرحلہ ضرور ہے، لیکن اس کے بعد ملک کے سکیورٹی ڈھانچے، ایران نواز گروہوں کے سیاسی اثر و رسوخ اور داعش کے خلاف کارروائی کی صلاحیت پر بھی گہری نظر رکھی جائے گی۔