امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات پر غور کیاجارہا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو اہم اہداف پر ممکنہ حملوں کے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ادھر، ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت بات چیت ہورہی ہے ۔
امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون نے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے،جبکہ وائٹ ہاؤس نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر نئے حملوں کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے مطابق انتظامیہ کے دو عہدیداروں نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون سے ایرانی اہداف پر حملوں کے مختلف آپشنز تیار کرنے کو کہا ہے۔ تاہم ممکنہ کارروائی کا دائرہ کار ابھی زیرِ غور ہے اور تاحال حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
امریکی انتظامیہ کے بعض حامیوں کا خیال ہے کہ کئی ماہ سے جاری غیر یقینی نوعیت کے امن کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات سے قبل طاقت کا مظاہرہ کرنے اور اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔
دی اٹلانٹک سے گفتگو کرنے والے ریپبلکن پارٹی سے وابستہ ایک شخص نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کہا کہ اس اقدام سے صدر کو یہ تاثر دینے میں مدد مل سکتی ہے کہ انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے اور اس کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتیں بھی کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔
تاہم امریکی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ صرف نئے فضائی یا فوجی حملے نہ تو جنگ کا خاتمہ کر سکیں گے اور نہ ہی انتخابات سے قبل ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
تجزیہ کار اس سے قبل یہ امکان ظاہر کر چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف مزید حملوں سے گریز کر سکتے ہیں، کیونکہ نئی فوجی کارروائی ان کی جماعت کی انتخابی پوزیشن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
تاہم حکام کے مطابق وسط مدتی انتخابات سے پہلے حملے کیے جائیں یا نہ کیے جائیں، انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا امکان موجود ہے۔
ممکنہ اہداف میں جوہری اور توانائی تنصیبات
امریکی نشریاتی ادارے ایکسیوس کے مطابق ممکنہ اہداف میں ایران کی جوہری تنصیبات، توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور دیگر اہم سرکاری و عسکری مراکز شامل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی منصوبہ ساز گزشتہ کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع پیمانے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں جوہری مراکز، توانائی کا انفرااسٹرکچر، سرکاری اثاثے اور سکیورٹی تنصیبات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اسرائیل بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔
ایکسیوس نے دو اسرائیلی عہدیداروں کے حوالے سے ایران کو ’مایوس اور خوف زدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران ممکنہ طور پر پہلا حملہ کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔
ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات میں سرگرمیاں
دوسری جانب ایران گزشتہ حملوں کے بعد اپنی جوہری تنصیبات اور میزائل سائٹس کی دوبارہ تعمیر کر رہا ہے۔
حالیہ رپورٹس میں سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تہران کے قریب واقع زیرِ زمین منزادہی جوہری تنصیب میں نمایاں نئی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے جنگ کے دوران اس جوہری تنصیب کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
ٹرمپ کی تردید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہو رہی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہم 3 نومبر کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔






