(فوٹورائٹرز)
ٹرمپ نے ایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویزمسترد کردی ہے۔ادھر،ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو امریکہ پراب بھروسہ نہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی صورت بنتی نظرنہیں آتی۔ دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے تازہ بیانات فی الحال اسی جانب اشارہ کررہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے پیش کیے گئے سات روزہ تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ہفتے کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کی تجویز قبول نہیں کی۔
ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ تجویز پیش کی گئی تھی، جسے قطر کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا گیا۔ تہران کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کھولی جا سکتی ہے اور خطے میں جاری جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق منصوبے کے ابتدائی اقدامات مکمل ہونے میں چار سے پانچ دن لگیں گے، چھٹے روز آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جبکہ ساتویں روز ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع ہوں گے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت باہمی طور پر طے شدہ امور زیر بحث آئیں گے۔
تجویز کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے واشنگٹن سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں چھوٹ دینے، تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور لبنان و یمن سمیت پورے خطے میں جنگ بندی پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے کیونکہ اس کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے پر کنٹرول رکھتا ہے، جبکہ واشنگٹن نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے اس کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی عائد کر رکھی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ کو ایران کے جانب سے اپنی شرائط پوری کیے جانے پر شکوک ہیں اور انہوں نے اپنے عملے سے کہا ہے کہ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری کا امکان موجود ہے۔ یہ رپورٹ نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے ہے۔
تہران کو واشنگٹن پرنہیں بھروسہ
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ تہران کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر اب اعتماد نہیں رہا۔ ان کے مطابق ماضی میں مذاکرات کے بعد ایران کو حملوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے یہ واضح نہیں کہ امریکہ کے ساتھ کسی سمجھوتے کی بنیاد کیا ہوگی۔ قطر اور پاکستان ایرانی پیغامات واشنگٹن تک پہنچا رہے ہیں۔
پیزشکیان نے کہا کہ موجودہ مذاکرات جون میں طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (MoU) سے منسلک ہیں اور امریکہ کو اس معاہدے کے بارے میں اپنا موقف واضح کرنا ہوگا، جو گزشتہ ماہ اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔
’مشرق وسطیٰ کو کسی علاقائی پولیس مین کی نہیں ضرورت‘
ایرانی صدر نے علاقائی سلامتی کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کو کسی علاقائی پولیس مین کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کو اسلامی دنیا میں اتحاد کے لیے کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ملک قرار دیا۔
یمن پرپیزشکیان کا موقف
یمن کی صورتحال پر پیزشکیان نے کہا کہ حوثیوں کی کارروائیاں ایران سے منسلک نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے سعودی عرب اور حوثیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور کہا کہ ایران اس عمل میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے کے مطابق تہران جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔






