(فوٹورائٹرز)
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر گولان نے علی خامنہ ای کی ہلاکت کو اسٹریٹجک غلطی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے نیتن یاہو پر ایران کے خلاف جنگ میں سفارتی موقع ضائع کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
اسرائیل کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے لیڈر یائرگولان نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے فیصلے کو اسرائیل کے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ہلاکت کے بعد ایران میں پہلے سے زیادہ انتہا پسندعناصر کو اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ ان کے مطابق، وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایرانی حکومت گرانے کا غیرحقیقی ہدف مقرر کرکے اسرائیل کی اسٹریٹجک پوزیشن بہتر بنانے کے بجائے اسے مزید کمزور کردیا۔
گولان نے جمعہ کو ریشون لیزیون میں ایک تقریب کے دوران انٹرویو میں کہا کہ فروری میں ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے آغاز پر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانا واضح طور پر ایک غلطی تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے غلط تھا کیونکہ اس سے اسرائیل کے قومی مفادات کو فائدہ نہیں پہنچا۔
گولان کے مطابق، کسی طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے معمر رہنما کی موجودگی کے اپنے اسٹریٹجک پہلو ہوتے ہیں، اور علی خامنہ ای اس وقت 86 برس کے تھے۔
’مجتبیٰ خامنہ ای انتہا پسند حلقوں کے زیرِ اثر‘
سابق اسرائیلی فوجی نائب سربراہ گولان نے کہا کہ علی خامنہ ای کے بعد اسرائیل کو زیادہ انتہا پسند شخصیات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایرانی اسٹریٹجک اور سکیورٹی اشرافیہ کے زیرِ اثر ہیں، جسے انہوں نے انتہائی انتہا پسند قرار دیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کے وقت ہونے والے حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق، نئے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔
دوسری جانب، نیویارک ٹائمزنے جولائی میں ایک رپورٹ میں امریکی انٹیلی جنس کے اس جائزے کا حوالہ دیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مقابلے میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے زیادہ خواہش مند ہیں۔ تاہم، اخبار کے مطابق، یہ جائزہ جنگ کے آغاز یا مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کے بعد حاصل ہونے والی نئی معلومات پر مبنی نہیں تھا، بلکہ پہلے سے جمع کیے گئے انٹیلی جنس مواد کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا۔
نیتن یاہو نے موقع ضائع کیا۔ گولان
گولان نے ایران کے خلاف جنگ کے نتائج پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کا ایسا ہدف مقرر کیا جو غیرحقیقی تھا اور حاصل نہیں کیا جاسکا۔ ان کے مطابق، اس ناکامی کے باعث جنگ کے بعد اسرائیل کی مجموعی اسٹریٹجک صورت حال پہلے سے زیادہ خراب ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جون 2025 میں آپریشن رائزنگ لائن کے اختتام پر اسرائیل ایران کے خلاف اپنی کامیابیوں کے عروج پر تھا، لیکن فروری 2026 میں شروع ہونے والے آپریشن رورنگ لائن کے بعد صورت حال بگڑ گئی۔
گولان نے بعد میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق، نیتن یاہو نے اپنی سیاسی بقا اور تکبر کے باعث ایک غیرمعمولی اسٹریٹجک موقع ضائع کردیا۔
انہوں نے لکھا کہ اسرائیل کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے خطے میں سفارتی پیش رفت کی قیادت کرنے کے بجائے نیتن یاہو نے ایرانی حکومت گرانے کے امکانات کے بارے میں امریکی حکام کو خوش فہمیوں میں مبتلا کیا، جب کہ جنگ کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح سفارتی حکمت عملی موجود نہیں تھی۔
گولان نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کی قیادت میں آپریشن رورنگ لائن نے اسرائیل کی اسٹریٹجک پوزیشن بہتر بنانے کے بجائے اسے مزید خراب کیا۔ ان کے مطابق، جنگ کے اہداف مقرر کرنے، مہم کو چلانے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری نیتن یاہو پر عائد ہوتی ہے۔
انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ پوزیشن
رپورٹ کے مطابق، رائے عامہ کے جائزوں میں یائر گولان کی پارٹی ڈیموکریٹس کو رواں ماہ کے آخر میں ہونے والے انتخابات میں آٹھ سے نو نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
گولان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کے خلاف جنگ کے مقاصد، اس کے نتائج اور خطے میں اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی سے متعلق حکمت عملی پر بحث جاری ہے۔ ان کی تنقید کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے اور حکومت گرانے کی کوششوں کے باوجود اسرائیل اپنی اسٹریٹجک پوزیشن بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔






