یمن میں حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ، 50 سے زائد فوجی ہلاک،متعدد زخمی

Published On: 19 October, 2026 11:25 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
یمن میں حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ، 50  سے زائد فوجی ہلاک،متعدد زخمی

(فوٹورائٹرز)

یمن کے صوبہ شبوا میں حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں 50 سے ائد فوجی ہلاک اور 200 زخمی ہوگئے ہیں ۔ صوبائی حکومت نے ہلاکتوں کی تعداد کو ابتدائی قرار دیتے ہوئے مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

یمن میں حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں 50 سے زائد  فوجی ہلاک اور 200 زخمی ہوگئے ہیں ۔ یمنی فوجی حکام کے مطابق  پیر(19 اکتوبر2026) کے روز جنوبی صوبے شبوا (Shabwa Province)میں واقع ایک فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں نئے اہلکار تربیت حاصل کررہے تھے ۔

صوبائی حکومت نے ہلاکتوں کی تعداد کوابتدائی قرار دیتے ہوئے مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے تناظرمیں یمن میں لڑائی ایک نئے محاذ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے اور حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

تربیتی کیمپ پرحملہ، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
 شبوا کی صوبائی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے میں فوج میں  نئے شامل ہونے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جو داخلی سلامتی کی فورسز میں شامل ہونے کے لیے تربیت حاصل کررہے تھے۔ حکومتی بیان کے مطابق یہ حملہ تربیت اور تیاری کے مرحلے میں موجود اہلکاروں پر کیا گیا، جو صوبے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک سنگین فوجی اشتعال انگیزی ہے۔

ایک یمنی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ میزائل اس وقت گرے جب اہلکار تربیتی مشق کے لیے قطار میں کھڑے ہورہے تھے۔ عہدیدار نے میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔

صوبائی حکومت نے یمن کے صدر، سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد اور حکومتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شبوا کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام اور پیشگی انتباہی نظام کی فراہمی تیز کی جائے۔

حوثیوں کا دعویٰ، سعودی افسران بھی تھےنشانے پر 
حوثی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ فوجی کیمپ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہاں سعودی افسران تعینات تھے۔ ترجمان کے مطابق حملے میں بعض سعودی افسران بھی ہلاک ہوئے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ سعودی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حملے کا سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ حوثیوں کے اس طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ دباؤ کا سامنا کرنے یا ایران کی حمایت یافتہ تخریبی کوششوں میں ناکامی کے وقت دہشت گردانہ حملوں کا سہارا لیتے ہیں۔

یمن میں 2022 کی جنگ بندی بھی متاثر
حوثیوں اورسعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان تازہ لڑائی نے 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس جنگ بندی نے یمن کی خانہ جنگی میں بڑے پیمانے پر جاری لڑائی کو کافی حد تک روک دیا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے مختلف محاذوں پر اپنی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بار بار نشانہ بنایا، جبکہ یمن میں بحیرۂ احمر کے ساحل اور اہم بحری گزرگاہ باب المندب کے قریب بھی مزید علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین اور دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اس کے اتحادی، جن میں لبنان اور عراق کے بعض گروہ شامل ہیں، حوثیوں کو تکنیکی مہارت، تربیت اور جدید ہتھیار فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ایران حوثیوں کو اسلحہ دینے کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔ ایسا اسلحہ فراہم کرنا اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتا ہے۔

سعودی قیادت میں فضائی حملے
حوثیوں کے زیرِ کنٹرول وزارتِ صحت کے مطابق اتوار کے روز یمن کے شمالی صوبے صعدہ میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس حملے کا الزام سعودی قیادت میں قائم اتحاد پر عائد کیا گیا ہے۔

حوثی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 5 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہیں۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے متعدد حملوں میں مجموعی طور پر 30 سے زیادہ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ سعودی عرب کی جانب سے ان حملوں پر بھی فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

حوثی تحریک شمالی یمن میں جڑیں رکھنے والی ایک شیعہ مذہبی و سیاسی تحریک ہے۔ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں حوثیوں کی جانب سے شمالی یمن کے بڑے حصوں، بشمول دارالحکومت صنعاء، پر قبضے کے بعد جنگ میں مداخلت کی تھی۔

سعودی ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات پر حملے تیز
حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور فوجی مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ سعودی تیل کمپنی آرامکو کے صدر دفتر پر حملہ بھی کیا گیا، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل سعودی عرب کے لیے ایک اہم دھچکا ہے۔

حوثیوں نے حال ہی میں یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور آبنائے باب المندب کے قریب بھی مزید علاقے اپنے قبضے میں لیے ہیں۔ باب المندب عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جو آبنائے ہرمز کے علاوہ بحری آمدورفت کا ایک اہم متبادل راستہ بھی فراہم کرتی ہے۔

حوثیوں کو اس اہم اسٹریٹجک علاقے سے پیچھے دھکیلنے اور قبضہ شدہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے رواں ماہ ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کی ہے۔

امریکی سفارت خانے کے یمنی ملازمین کی رہائی کا مطالبہ
پیرکے روز صنعاء میں امریکی سفارت خانے کے 20 سے زائد یمنی ملازمین کو حوثیوں کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے پانچ سال بھی مکمل ہوگئے۔

امریکی سفارت خانے نے 2015 میں اپنی سرگرمیاں معطل کردی تھیں، تاہم مقامی ملازمین اس کی سکیورٹی اور عمارت کی بنیادی دیکھ بھال کے فرائض انجام دیتے رہے تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کے روز ان ملازمین کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔

یمن میں تازہ حملوں، سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی کارروائیوں اور باب المندب کے قریب فوجی کشیدگی نے خطے میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایران جنگ کے پھیلتے ہوئے اثرات کے درمیان یمن ایک بار پھر ایسے محاذ کے طور پر ابھر رہا ہے جس کی کشیدگی خلیجی سلامتی، تیل کی تنصیبات اور عالمی بحری تجارت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔